logo logo
AI Search

کیا بڑے جانور میں چار افراد قربانی کر سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بڑے جانور کی قربانی میں چار افراد کی شرکت کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا گائے یا بھینس میں چار افراد مل کر قربانی کر سکتے ہیں؟

جواب

گائے یا بھینس وغیرہ بڑے جانور میں چار افراد، اس طرح مل کر قربانی کر سکتے ہیں، کہ کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو، اب چاہے سب کے حصے برابر، برابر ہوں، یا کم وبیش، کیونکہ شریعت مطہرہ کی روشنی میں بڑے جانور (یعنی گائے، بیل، بھینس یا اونٹ) کی قربانی میں شریک ہونے والے افراد میں سے کسی بھی فرد کا حصہ، ساتویں حصے سے کم نہیں ہونا چاہیے، ساتویں حصے سے زیادہ ہوسکتا ہے۔

تنویر الابصار مع در مختار میں ہے "(تجب ۔۔۔ شاۃ أو سبع بدنۃ) ھی الإبل و البقر، ... و لو لأحدھم أقل من سبع لم یجز عن أحد، و تجزی عما دون سبعۃ بالأولی" ترجمہ: ایک بکری، یا بڑے جانور، جیسے اونٹ اور گائے کا، ساتواں حصہ واجب ہے، اور اگر شرکا میں سے کسی کا حصہ، ساتویں حصے سے کم ہو، تو کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی، اور اگر شریک سات سے کم ہوں، تو بدرجۂ اولیٰ قربانی ہوجائے گی۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے "أطلقه فشمل ما إذا اتفقت الأنصباء قدرا أو لا لكن بعد أن لا ينقص عن السبع" ترجمہ: اس کو مطلق رکھا ہے تو یہ اس صورت کو بھی شامل ہے، جبکہ تمام حصے مقدار کے اعتبارسے برابر ہوں، یا برابر نہ ہوں، لیکن بعداس کے کہ کوئی حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، جلد 9، صفحہ 521، 524، 525، مطبوعہ: کوئٹہ)

بدائع الصنائع میں ہے "و لا شك في جواز بدنة أو بقرة عن أقل من سبعة بأن اشترك اثنان أو ثلاثة أو أربعة أو خمسة أو ستة في بدنة أو بقرة لأنه لما جاز السبع فالزيادة أولى و سواء اتفقت الأنصباء في القدر أو اختلفت بأن يكون لأحدهم النصف و للآخر الثلث و لآخر السدس بعد أن لا ينقص عن السبع" ترجمہ: اور سات آدمیوں سے کم کی طرف سے اونٹ یا گائے کی قربانی کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، یوں کہ دو افراد شرکت کریں، یا تین، یا چار، یا پانچ، یا چھ، ایک اونٹ میں، یا ایک گائے میں، جواز کی وجہ یہ ہے کہ جب ساتواں حصہ جائز ہے، تو اس سے زیادہ بدرجہ اولی جائز ہوگا، اور برابر ہے کہ سارے حصے مقدار میں متفق ہوں، یا مختلف، یوں کہ ان میں سے ایک کے لیے آدھا جانور ہو، دوسرے کے لیے تیسرا حصہ، اور تیسرے کے لیے چھٹا حصہ، بعد اس کے کہ کسی کا حصہ ساتویں سے کم نہ ہو۔ (بدائع الصنائع، کتاب التضحیۃ، محل اقامۃ الواجب، ج 04، ص 207، مطبوعہ: کوئٹہ)

صدر الشریعہ، بدر الطریقہ، مولانا مفتی محمد امجد علی، اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: جب قربانی کی شرائط مذکورہ پائی جائیں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے، ساتویں حصہ سے کم نہیں ہو سکتا، بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکاء میں اگر کسی شریک کا ساتویں حصہ سے کم ہے، تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی، یعنی جس کا ساتواں حصہ یا اس سے زیادہ ہے اوس کی بھی قربانی نہیں ہوئی۔ گائے یا اونٹ میں ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہوسکتی ہے، مثلا: گائے کو چھ یا پانچ یا چار شخصوں کی طرف سے قربانی کریں، ہو سکتا ہے اور یہ ضرورنہیں کہ سب شرکاء کے حصے برابر ہوں، بلکہ کم و بیش بھی ہوسکتے ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ جس کا حصہ کم ہے، تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 335، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5054
تاریخ اجراء: 15 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 01 جون 2026ء