logo logo
AI Search

ایک خصیے والے بکرے کی قربانی کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بکرے کا ایک خصیہ پیدائشی نہ ہو تو قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے پاس ایک سال سے زیادہ عمر کا بکرا ہے، اس کا پیدائشی طور پر ایک خصیہ (کپورا) نہیں ہے، مگر وہ جفتی پر قادر ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

جواب

قوانین شرعیہ کے مطابق قربانی کےجس جانور کے دونوں کپورے اور عضوِ تناسل کو بھی کاٹ لیاجائے، تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے، کیونکہ ان چیزوں کا جانور میں نہ ہونا کوئی عیب نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے قربانی ناجائز ہو۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جس بکرے کا پیدائشی طور پر ایک کپورا نہیں ہے اس کی قربانی جائز ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ اس بکرے کو خصی کرا دیا جائے، کیونکہ خصی جانور کی قربانی غیر خصی سے افضل ہے، زیادہ ثواب ہے اورخود نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم سے بھی خصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہے۔

رد المحتار میں ہے: "تجوز التضحية بالمجبوب العاجز عن الجماع" وہ مقطوع الذکر جانور جو جماع سے عاجز ہو اس کی قربانی جائز ہے۔ (رد المحتار، ج 09، ص 538 مطبوعہ کوئٹہ)

سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا کہ بکرے دو طرح خصی کیے جاتے ہیں، ایک یہ کہ رگیں کوٹ دی جائیں، اس میں کوئی عضو کم نہیں ہوتا، دوسرے یہ کہ آلت تراش کر پھینک دی جاتی ہے، اس صورت میں ایک عضو کم ہو گیا، آیا ایسے خصی کی بھی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

تو اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: جائز ہے کہ اس کی کمی سے اس جانور میں عیب نہیں آتا۔ فی الھندیۃ عن الخلاصۃ یجوز المجبوب العاجز عن الجماع (ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ ذکر کٹا جو جفتی کے قابل نہ رہا وہ قربانی میں جائز ہے)۔ ملخصا (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 458، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے: خصی یعنی جس کے خصیے نکال لیے گئے ہیں یا مجبوب یعنی جس کے خصیے اور عضو تناسل سب کاٹ لیے گئے ہوں ان کی قربانی جائز ہے۔ (بھار شریعت، ج 03، ص 340، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خصی کیے ہوئے دو مینڈھوں کی قربانی کی۔ چنانچہ سنن ابو داؤد میں ہے: عن جابر بن عبد اللہ قال: ذبح النبي صلى اللہ عليه و سلم يوم الذبح كبشين أقرنين أملحين، موجأين۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قربانی کے دن سینگوں والے، چتکبرے، خصی کیے ہوئے دو مینڈھے ذبح کیے۔ (سنن ابو داؤد، ص، 448، حدیث 2795، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: خصی کی قربانی افضل ہے اور اس میں ثواب زیادہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 444، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Mul-1389
تاریخ اجراء: 23 ذیقعدہ 1446ھ / 21 مئی 2025ء