انجکشن کے ذریعے پیدا ہونے والے جانور کی قربانی کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مصنوعی طریقہ سے انجکشن کے ذریعہ پیدا ہونے والے جانور کی قربانی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایسا جانور، جسے روایتی طریقے سے ہٹ کر، انجکشن کے ذریعے حمل ٹھہرا کر، لیا گیا ہو، کیا اس کی قربانی ہو جائے گی؟
جواب
انجکشن کے ذریعے حاصل کیے گئے جانور کی بھی قربانی ہو جائے گی، کیونکہ قربانی درست ہونے کے لئے اس جانور کا ایسی مادہ سے پیدا ہونا ضروری ہے، جس کی جنس کی قربانی درست ہو؛ جیسے گائے، بکری اور اونٹنی وغیرہ، کیونکہ جانور میں اصل ماں کا اعتبار ہوتا ہے، ماں اگر اس جانور کی جنس سے ہے، جس کی قربانی ہو جاتی ہے، تو اب حمل ٹھہرانے کا، جو بھی طریقہ ہو، اس سے پیدا ہونے والے جانور کی قربانی ہو جائے گی۔
تبیین الحقائق میں ہے ”العبرة للأم ألا ترى أن الذئب لو نزا على شاة فولدت ذئبا حل أكله ويجزي في الأضحية.“ ترجمہ: جانوروں میں اعتبار ماں کا ہے، کیا تم دیکھتے نہیں کہ بھیڑیا جب بکری سے جفتی کرے اور وہ ایسا بچہ جنے جو شکل میں بھیڑیے جیسا ہو تو اس کا کھانا حلال ہوتا ہے اور اس کی قربانی بھی درست ہو جاتی ہے۔ (تبيين الحقائق، جلد 01، صفحہ 34، مطبوعہ قاھرۃ)
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے ”المعتبر في الحل والحرمة الأم فيما تولد من مأكول وغير مأكول“. ترجمہ: جانوروں کے حلال و حرام ہونے میں ماں کا اعتبار ہے، ان میں کہ جو ماکول اللحم اور غیر ماکول اللحم جانور سے پیدا ہوتے ہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 06، صفحہ 305، دار الفکر، بیروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ: حلال جانور مادہ سے نر جانور حرام جفتی کرے جو بچہ اس سے پیدا ہو خواہ بشکل مادہ یا نر یا دونوں کی شکل ہو وہ بچہ حرام ہوگا یا حلال؟
تو آپ نے جواب ارشاد فرمایا کہ: "مادہ جب حلال ہے تو بچہ حلال ہے کہ جانور میں نسب ماں سے ہے نہ کہ باپ سے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 642، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5068
تاریخ اجراء: 09 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 25 مئی 2026ء