logo logo
AI Search

Qurbani Ki Niyat Se Janwar Kharid Kar Phir Bechna Kaisa?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قربانی کی نیت سے جانور خرید کر پھر بیچنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم قربانی کے لیے جانور خرید کر اپنےعلاقے میں لائے، تو وہ ایک آدمی کو پسند آگیا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ جانور مجھے بیچ دو اور آپ اپنے لیے دوسرا جانور خرید لو اور اس آدمی کو جانور بیچنے سے ہمیں نفع بھی مل رہا ہے، کیا ہم وہ جانور اسے بیچ سکتے ہیں؟

نوٹ : وہ جانور غنی نے قربانی کے لیے خریدا تھا۔

جواب

غنی نے قربانی کی نیت سے جو جانور خریدا اگر وہ اسے بیچتا ہے اور اس کی قیمت میں سے کچھ رقم کم کرکے بقیہ کا دوسرا جانور خریدے، تو بیچنا ناجائز ہے اور یہ گناہگار ہوا، اس پر توبہ لازم ہے اور بچائی ہوئی رقم صدقہ کر دے اور اگر اسے بیچ کر اس کی مثل دوسرا جانور لانا چاہتا ہے، تو بھی بیچنا مکروہ تحریمی و گناہ ہے، ہاں اگر اس سے بہتر جانور لانا چاہتا ہے، تو بیچنا جائز ہے۔

جب جانور خریدتے وقت دوسروں کو شریک کرنے کی نیت نہ ہو، تو اس کے حصے بیچنے سے متعلق در مختار مع رد المحتار میں ہے: ’’ان نوی وقت الشراء الاشتراک صح استحساناً و الا لا استحساناً و فی الھدایہ: و الاحسن ان یفعل ذلک قبل الشراءلیکون ابعد عن الخلاف و عن صورۃ الرجوع فی القربۃ۔ و فی الخانیۃ: و لو لم ینو عند الشراء ثم اشرکھم فقد کرھہ ابو حنیفۃ‘‘ ترجمہ: اگر جانور خریدتے وقت دوسروں کو شریک کرنے کی نیت کی، تو استحساناً صحیح ہے ورنہ شریک کرنا استحساناً صحیح نہیں ہے اور ہدایہ میں ہے: بہتر یہ ہے کہ خریدنے سے پہلے یہ (دوسروں کو شریک کرنے کا عمل) کرلے تاکہ اختلاف اورقربت میں رجوع کرنے کی صورت سے بچ جائے اور خانیہ میں ہے: اگر اس نے خریداری کے وقت نیت نہیں کی، پھر دوسروں کو شریک کیا، تو امام اعظم علیہ الرحمۃ نے اسے مکروہ کہا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، صفحہ 527، مطبوعہ کوئٹہ)

قربانی کی نیت سے خریدا ہوا جانور بدلنے سے متعلق جد الممتار میں ہے: اقول: تقدم فیما اذا ضلت فشری اخری فوجد الاولی فذبح الثانیۃ و ھی اقل قیمۃ من الاولی تصدق بالفضل، و ذلک لانھا و ان لم تتعین فی حق الغنی الغیر الناذر لکنہ لما شراھا للاضحیۃ فقد نوی اقامۃ القربۃ بھا، فاذا ابدلھا بما دونھا کان رجوعاً عن بعض ما نوی فامر بالتصدق، و قد مر فی الشرح بلفظ: (ضمن الزائد) و فی حاشیۃ عن البدائع بلفظ: (علیہ ان یتصدق بافضلھا) ۔۔۔ و قال فی الھدایۃ و التبیین: (انھا تعینت للاضحیۃ حتی وجب ان یضحی بھا بعینھا فی ایام النحر، و یکرہ ان یبدل بھا غیرھا) قال فی العنایۃ: (بعینھا فی ایام النحر فیما اذا کان المضحی فقیراً و یکرہ ان یبدل اذا کان غنیا) و مطلق الکراھۃ التحریم بل زاد سعدی افندی بعد قولہ: ’’اذا کان غنیا‘‘ (و لکن یجوز استبدالھا بخیر منھا عند ابی حنیفۃ و محمد رحمھما اللہ تعالی) خصھما لانھا عند ابی یوسف کالوقف، فدل علی ان الاستبدال بغیر الخیر لا یجوز و قال فی العنایۃ (لو اشتری اضحیۃ ثم باعھا و اشتری مثلھا لم یکن بہ بأس) فافھم ان لو کانت ادون منھا کان بہ بأس، و لا بأس فی المکروہ تنزیھا فیکرہ تحریما بل قال علیہ سعدی افندی: (اقول: فیہ بحث) ای: فی المثل ایضاً بأس بل یشترط للجواز الخیرۃ کما قدّمنا عنہ

ترجمہ: میں کہتا ہوں: پہلے جو مسئلہ گزرا کہ جب قربانی کا جانور گم ہوگیا اور مالک نے دوسرا جانور خرید لیا اور پھر پہلا مل گیا اور اس نے دوسرا جانور، جو پہلے سے کم قیمت کا ہے، ذبح کر دیا، تو وہ شخص (پہلے جانور کی دوسرے سے) زائد قیمت صدقہ کردے اور یہ حکم اس لیے ہے کہ اگرچہ پہلا جانور جس غنی نے نذر نہ مانی ہو، اس کے حق میں متعین نہیں ہوا تھا، لیکن جب اس نے قربانی کے لیے جانور خریدا، تو اس جانور کے ذریعے اس نے قربت قائم کرنے کی نیت کر لی اور جب وہ اس سے کم تر کے ساتھ بدلے گا، تو یہ (بدلنا) اس کے بعض سے رجوع کرنا ہوگا، جس میں اس نے (قربت کی) نیت کی تھی، لہٰذا اسے صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا اور شرح میں ان الفاظ کے ساتھ گزرا ہے کہ وہ زائد کا ضامن ہے اور حاشیہ میں بدائع کے حوالے سے یہ الفاظ ہیں کہ اس پر لازم ہے، وہ دونوں کے درمیان جو زیادتی ہے، اس کو صدقہ کرے۔ ہدایہ اور تبیین میں فرمایا: (جو جانور پہلے خریدا تھا) وہ قربانی کے لیے معین ہوگیا حتی کہ اس پر واجب ہے کہ قربانی کے دنوں میں بعینہ اسی جانور کی قربانی کرے اور اس کو دوسرے جانور سے بدلنا مکروہ ہے۔ عنایہ میں فرمایا: اگر قربانی کرنے والا شخص فقیر ہے، تو قربانی کے دنوں میں بعینہ اسی جانور کی قربانی کرے اور اگر غنی ہے، تو اس کے لیے جانور بدلنا مکروہ ہے اور مطلق مکروہ، مکروہ تحریمی ہوتا ہے۔ بلکہ سعدی آفندی علیہ الرحمۃ نے صاحب عنایہ کے قول: ’’اذا کان غنیا‘‘ کے بعد یہ زائد کیا۔ لیکن امام اعظم و محمد رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کے لیے خریدے ہوئے، جانور کو اس سے بہتر سے بدلنا جائز ہے۔ تو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بہتر کے علاوہ سے بدلنا جائز نہیں اور سعدی آفندی نے (بہتر سے بدلنے کے جواز کو) ان دونوں (یعنی امام ابوحنیفہ اور امام محمد) کے ساتھ خاص اس لیے کیا، کیونکہ امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک قربانی کا جانور وقف کی طرح ہے۔

اور عنایہ میں فرمایا: اگر قربانی کا جانور خریدا، پھر اسے بیچ دیا اور اس کی مثل خریدا، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ تو تم اس بات کو سمجھو کہ اگر دوسرا جانور پہلے سے کم تر ہو، تو اس میں حرج ہے اور (حرج ہونا قرار دینے کا مطلب ہوا کہ یہ مکروہ تحریمی ہوگا کیونکہ) مکروہ تنزیہی میں کوئی حرج نہیں ہوتا، لہٰذا (حرج قرار دینے کا مطلب ہوا کہ دوسرے کا پہلے سے کم تر ہونا) مکروہ تحریمی ہے، بلکہ سعدی آفندی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: میں کہتا ہوں: اس مسئلے میں بھی بحث ہے یعنی دوسرے جانور کا پہلے کی مثل ہونے میں بھی حرج ہے، بلکہ (جانور بدلنے) کے جواز کے لیے (دوسرے کا) بہتر ہونا شرط ہے، جیسا کہ ہم ان کے حوالے سے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ (جد الممتار، کتاب الاضحیۃ، جلد 6، صفحہ 459، 460، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

قربانی کے لیے خریدی ہوئی گائے کسی کو دے کر دوسرا جانور قربان کرنے سے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: وہ گائے کہ بہ نیتِ قربانی خریدی، اس کا دوسری گائے سے بدلنا بھی منع ہے کہ اللہ کے واسطے اس کی نیت کر کے پھرنا معیوب ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 577، رضا فاؤنڈیشن لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-1647
تاریخ اجراء: 26 ذیقعدۃ الحرام 1440ھ / 30 جولائی 2019ء