logo logo
AI Search

جانور ذبح کرنے کا طریقہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قربانی کا جانور ذبح کرنے کا سنت طریقہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ (1) قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت ذبح کرنے والے شخص اور جانور کا منہ کس طرف ہونا چاہیے اور جانور کو کس طرح لٹا کر ذبح کرنا چاہیے ؟

(2) اگر کوئی شخص بائیں (الٹے / Left) ہاتھ سے جانور ذبح کرے، تو کیا جانور ذبح ہو جائے گا اور اس کا کھانا مکروہ تو نہیں ہوگا ؟

جواب

(1) قربانی کا جانور ہو یا عام جانور، دونوں کو ذبح کرنے کا سنت کے مطابق طریقہ یہ ہے کہ ذبح کرنے والے شخص اور جانور دونوں کا منہ قبلہ کی طرف ہو، اس طرح کہ پاک و ہند میں قبلہ چونکہ مغرب کی طرف ہے تو جانور کا سر، جنوب کی طرف رکھیں گے اور جانور کو بائیں (الٹے) پہلو پر لٹائیں گے، جانور کا سیدھا حصہ اوپر کی طرف ہوگا اور جانور کی پیٹھ مشرق کی طرف ہوگی، یوں جانور کا منہ قبلہ کی جانب ہو جائے گا اور پھر ذبح کرنے والا شخص اپنا دایاں پاؤں جانور کی گردن کے دائیں حصے (یعنی گردن کے قریب پہلو) پر رکھے اور اس طریقے سے جانور کو ذبح کرے۔ یاد رہے کہ اگر جانور کا یا ذبح کرنے والے شخص کا اپنا منہ قبلہ کی جانب نہ ہوا، تو بھی جانور ذبح و حلال ہو جائے گا، قربانی کا ہو تو قربانی بھی ہو جائے گی، البتہ بلاعذر جانور کو قبلہ رُو نہ لٹانا سنت مؤکدہ کا ترک اور مکروہ عمل ہے۔

(2) افضل اور بہتر یہ ہے کہ دائیں یعنی سیدھے ہاتھ سے جانور ذبح کیا جائے، کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم ہر کام دائیں سے کرنا، پسند فرماتے تھے، لہٰذا جانور ذبح کرتے ہوئے بھی خواہ قربانی کا جانور ہو یا عام کوئی بھی جانور، سیدھے ہاتھ سے ہی ذبح کیا جائے اور اگر بائیں ہاتھ سے ذبح کیا تو بھی جانور حلال ہو جائے گا اور قربانی کا ہو تو قربانی بھی ہو جائے گی، البتہ یہ عمل بہتر نہیں ہے۔

پہلے مسئلے کے متعلق دلائل:

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے جانوروں کو ذبح کرتے وقت قبلہ رُو لٹایا، چنانچہ سنن ابو داؤد شریف میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”ذبح النبی صلى اللہ عليه وسلم يوم الذبح كبشين أقرنين أملحين موجوئين، فلما وجههما قال: "اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ، اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، لَا شَرِیْكَ لَهٗۚ-وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَّأُمَّتِهٖ، بِاسْمِ اللہِ وَاللہُ اَكْبَر" ثم ذبح“ ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے قربانی کے دن دو خصی، چتکبرے سینگوں والے دنبے ذبح فرمائے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے جب ان کو قبلہ رُو لٹایا اور مذکورہ بالا دعا پڑھ کر ان کو ذبح کیا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الاضاحی، باب مایستحب من الضحایا، جلد 4، صفحہ 421، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیہ)

جانور کی گردن کے ساتھ والے حصے پر پاؤں رکھنے کے متعلق بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہے: ”ضحى النبي صلى اللہ عليه وسلم بكبشين أملحين، فرأيته واضعا قدمه على صفاحهما، يسمي ويكبر، فذبحهما بيده“ ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے دو چتکبرے موٹے دُنبے ذبح فرمائے، تو میں نے دیکھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا پاؤں مبارک جانور کی گردن کے ساتھ والے حصے پر رکھا اور بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی، تو دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا۔ (صحیح البخاری، کتاب الاضاحی، باب من ذبح الاضاحی بیدہ، جلد 7، صفحہ 101، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، مصر)

علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ کے تحت لکھتے ہیں: ” وقال ابن القاسم: الصواب ان يضجعها على شقها الأيسر وعلى ذلك مضى عمل المسلمين فإن جهل فأضجعها على الشق الآخر لم يحرم أكلها“ ترجمہ: ابن قاسم نے کہا ہے کہ جانور ذبح کرنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ جانور کو بائیں (الٹے) پہلو پر لٹایا جائے اور یہی طریقہ مسلمانوں میں رائج ہے، تو اگر کسی نے جہالت کی اور جانور کو دوسرے (یعنی سیدھے) پہلو پر لٹا دیا، تو بھی جانور کا کھانا حرام نہیں ہوگا (جانور حلال ہی رہے گا)۔ (عمدۃ القاری، جلد 21، صفحہ 154، 155، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

 جانور کو قبلہ رخ کرنا سنتِ مؤکدہ اور سنتِ متوارثہ ہے، لیکن اگر اس کا خلاف کیا، تو بھی جانور حلال ہو جائے گا، چنانچہ تبیین الحقائق مع حاشیۃ الشلبی میں ہے: ’’(لو ذبحها متوجهة لغير القبلة يكره وتؤكل؛ لأن السنة في الذبح أن يستقبل بها القبلة هكذا روي عن ابن عمر رضي اللہ عنهما أن النبي صلى اللہ عليه وسلم استقبل في أضحيته القبلة لما أراد ذبحها) قال في الأصل أرأيت الرجل يذبح ويسمي ويوجه ذبيحته إلى غير القبلة متعمدا أو غير متعمد قال لا بأس بأكلها۔ قال خواهر زاده في شرح المبسوط أما الحل فلأن الإباحة شرعا متعلقة بقطع الأوداج والتسمية وقد وجد وتوجيه القبلة سنة مؤكدة لأنه توارثه الناس وترك السنة لا يوجب الحرمة، ولكن يكره تركه من غير عذر‘‘

ترجمہ: اگر جانور کو قبلہ کے علاوہ کسی اور طرف رخ کرکے ذبح کیا تو یہ مکروہ ہے، اور جانور کھایا جائے گا، کیونکہ ذبح میں سنت قبلہ رخ ہونا ہے، اسی طرح حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا ارادہ فرماتے، تو اس کا منہ قبلہ کی طرف کرتے۔کتاب الاصل میں فرمایا کہ اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جو جانور کو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرے اور اپنے جانور کو جان بوجھ کر یا بغیر ارادے کے قبلہ رخ نہ کرے؟ تو فرمایا کہ اس جانور کو کھانے میں حرج نہیں۔خواہر زادہ نے مبسوط کی شرح میں فرمایا کہ جانور کا حلال ہونا تو اس لئے ہے کہ اباحت کا تعلق شرعاً رگوں کے کٹنے اور بسم اللہ پڑھنے سے ہے اور وہ پایا گیا ہے اور قبلہ رخ کرنا سنت مؤکدہ ہے، کیونکہ لوگوں کا اس پر توارث جاری ہے اور سنت کا ترک حرمت کو ثابت نہیں کرتا، لیکن بغیر عذر اس کا ترک مکروہ ہوگا۔ (تبیین الحقائق مع حاشیۃ الشلبی، کتاب الذبائح، جلد 5، صفحہ 292، مطبوعہ قاھرۃ)

شیخ الاسلام و المسلمین امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ جانور ذبح کرنے کا طریقہ لکھتے ہیں: ”سنت یہ چلی آرہی کہ ذبح کرنے والا اور جانور دونوں قبلہ رُو ہوں، ہمارے علاقہ میں قبلہ مغرب میں ہے اس لئے سر ذبیحہ جنوب کی طرف ہونا چاہئے تاکہ جانور بائیں پہلو لیٹا ہو اور اس کی پیٹھ مشرق کی طر ف ہو تاکہ اس کا منہ قبلہ کی طرف ہو جائے، اور ذبح کرنے والا اپنا دایاں پاؤں جانورکی گردن کے دائیں حصہ پر رکھے اور ذبح کرے اور خود اپنا یا جانور کا منہ قبلہ کی طرف کرنا ترک کیا تو مکروہ ہے۔ “ (فتاویٰ رضویہ، جلد 20، صفحہ 216، 217، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

سنتِ متوارثہ کی پیروی کے متعلق سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ’’یہ امر خلاف سنتِ متوارثہ مسلمین ہے اور سنتِ متوارثہ کا خلاف مکروہ ۔۔۔ اور متوارث کا اتباع ضرور ہے۔  (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 302، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا الیاس عطار قادری ضیائی دامت برکاتھم العالیہ لکھتے ہیں: ”(چاہے قربانی ہو یا ویسے ہی ذَبْح کرنا ہو) سنّت یہ چلی آ رہی ہے کہ ذَبْح کرنے والا اور جانور دونوں قبلہ رُو ہوں، ہمارے عَلاقے (یعنی پاک و ہند) میں قِبلہ مغرِب (WEST) میں ہے، اس لئے سرِ ذَبیحہ (یعنی جانور کا سر) جُنُوب (SOUTH) کی طرف ہونا چاہئے تا کہ جانور بائیں (یعنی الٹے) پہلو لیٹا ہو، اور اس کی پیٹھ مشرِق (EAST) کی طرف ہو تا کہ اس کا مُنہ قبلے کی طرف ہو جائے، اور ذَبْح کرنے والا اپنا دایاں (یعنی سیدھا) پاؤں جانور کی گردن کے دائیں (یعنی سیدھے) حصّے (یعنی گردن کے قریب پہلو) پر رکھے اور ذَبْح کرے اور خود اپنا یا جانور کا مُنہ قبلے کی طرف کرنا ترک کیا تو مکروہ ہے۔ “ (ابلق گھوڑے سوار، قربانی کا طریقہ، صفحہ 13، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

دوسرے مسئلے کے متعلق دلائل:

سنن نسائی شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: ” كان النبي صلى اللہ عليه وسلم يحب التيامن في كل شيء“ ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ہر کام میں دایاں (یعنی سیدھا) ہاتھ استعمال کرنا پسند فرماتے تھے۔ (صحیح ابن حبان، جلد 12، صفحہ 271، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

النتف فی الفتاویٰ میں ہے: ”والخامس ان يذبحها بيمينه“ ترجمہ: جانور ذبح کے کے آداب میں سے پانچویں چیز یہ ہے کہ ذبح کرنے والا اپنے دائیں (سیدھے) ہاتھ سے جانور ذبح کرے۔ (النتف للفتاویٰ، کتاب الذبائح والصید، ادب الذبح، صفحہ 230، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

فتاویٰ فقیہ ملت میں سوال ہوا: ”زید بائیں ہاتھ سے قربانی کرتا ہے، داہنے ہاتھ سے نہیں کر پاتا، تو کیا بائیں ہاتھ سے قربانی کرنے میں کوئی مضائقہ تو نہیں؟“ اس کے جواب میں فرمایا: ”قربانی ہو جائے گی، مگر افضلیت کا ثواب نہیں ملے گا۔ کہ داہنے ہاتھ سے کرنا افضل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر کام داہنے ہاتھ سے کرنے کو پسند فرمایا ہے۔“ (فتاویٰ فقیہ ملت، جلد 2، صفحہ 251، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs- 2953
تاریخ اجراء: 09 ذو الحجہ 1447ھ / 26 مئی 2026ء