پہلے دن قربانی کرنے کا ثواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پہلے دن قربانی کرنے کا ثواب زیادہ ہے
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ یہ سننے میں آتا ہے کہ اگر پہلے دن قربانی کی جائے، تو زیادہ ثواب ملتا ہے، اور اگر دوسرے یا تیسرے دن قربانی کی جائے تو ثواب کم ملتا ہے؟ کیا یہ درست ہے؟ اس کی کیا حقیقت ہے؟
جواب
جی ہاں! پہلے دن قربانی کا ثواب سب سے زیادہ ہے؛ کہ حدیث پاک میں ہے کہ پہلے دن قربانی کرنا سب سے زیادہ فضیلت والا عمل ہے، نیز پہلے دن قربانی کرنے میں نیکی کی طرف جلدی کرنا ہے، جس کا قرآن پاک میں حکم ہے، جبکہ دوسرے دن قربانی کرنے میں پہلے دن کے مقابلے میں نیکی کرنے میں تاخیر ہے، لہذا دوسرے دن قربانی کرنے کا ثواب پہلے دن کے مقابلے میں کم ہے، اور تیسرے دن قربانی کرنے میں تمام دنوں کے مقابلے میں، نیکی کرنے میں تاخیر زیادہ ہونے کی وجہ سے سب سے کم ثواب ہے۔
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ الجامع الکبیر میں روایت بیان کرتے ہیں: "عن علي قال: الأيام المعدوات ثلاثة أيام: يوم النحر، ويومان بعده، اذبح في أيها شئت، وأفضلها أولها" ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: گنتی کے دن، تین دن ہیں: یوم نحر (10 ذوالحجہ) اور اس کے بعد دو دن۔تم ان میں سے جس دن چاہے ذبح کرو، اور ان میں سے زیادہ فضیلت والا پہلا دن ہے۔ (الجامع الکبیر، جلد 17، صفحہ 634، مطبوعہ: قاہرہ)
در مختار میں ہے ”وهي ثلاثة أفضلها أولها“ ترجمہ: ایام قربانی تین ہیں اور ان میں سب سے افضل پہلا دن ہے۔
اس کے تحت ردالمحتار میں ہے: ”ثم الثاني ثم الثالث“ ترجمہ: اس کے بعد دوسرا پھر تیسرا دن۔ (در مختار مع ردالمحتار، جلد 9، صفحہ 525، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی ہندیہ میں ہے ”وقت الأضحية ثلاثة أيام العاشر والحادي عشر والثاني عشر، أولها أفضلها وآخرها أدونها“ ترجمہ: قربانی کا وقت تین دن دس، گیارہ اور بارہ (ذو الحج) ہے سب سے افضل پہلا دن ہے اور سب سے کم ثواب والا آخری دن ہے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 5، صفحہ 295، دارالفکر، بیروت)
پہلے دن کے افضل اور زیادہ ثواب کی علت بیان کرتے ہوئے علامہ کاسانی حنفی (سال وفات: 587 ھ) بدائع الصنائع میں فرماتے ہیں: ”أولها أفضلها ولأنه مسارعة إلى الخير وقد مدح اللہ - جل شأنه - المسارعين إلى الخيرات السابقين لها بقوله - عز شأنه - {أولئك يسارعون في الخيرات وهم لها سابقون} [المؤمنون: 61] وقال - عز شأنه - {وسارعوا إلى مغفرة من ربكم} [آل عمران: 133] أي إلى سبب المغفرة ولأن اللہ - جل شأنه - أضاف عباده في هذه الأيام بلحوم القرابين فكانت التضحية في أول الوقت من باب سرعة الإجابة إلى ضيافة اللہ جل شأنه“
ترجمہ: ان دنوں میں پہلا دن سب سے افضل ہے، کیونکہ یہ نیکی کی طرف جلدی کرنے میں داخل ہے، اور اللہ جلَّ شانہ نے نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی بھلائیوں کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں۔(المؤمنون: 61) اور فرمایا: اور اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو۔ (آلِ عمران: 133) یعنی مغفرت کے سبب کی طرف۔ اور اس لیے بھی کہ اللہ جلَّ شانہ نے ان دنوں میں اپنے بندوں کی مہمانی قربانی کے گوشت کے ساتھ فرمائی ہے، لہٰذا وقت کے آغاز میں قربانی کرنا اللہ جل شانہ کی ضیافت کی طرف جلد ی سے لبیک کہنا ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 223، مطبوعہ: کوئٹہ)
اور الاختیار لتعلیل المختار میں ہے ”أفضلها أولها لما رويناه، لكونه مسارعة إلى الخير والقربة، وأدناها آخرها لما فيه من التأخير عن فعل الخير“ ترجمہ: قربانی کے دنوں میں سب سے افضل پہلا دن ہے، اس روایت کی وجہ سے جسے ہم بیان کر چکے ہیں، نیز اس لیے کہ یہ نیکی اور عبادت کی طرف جلد ی کرنا ہے۔ اور سب سے کم درجہ آخری دن کا ہے، کیونکہ اس میں نیکی کے کام کو مؤخر کرنا پایا جاتا ہے۔ (الاختيار لتعليل المختار، جلد 5، صفحہ 19، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5065
تاریخ اجراء: 09 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 25 مئی 2026ء