logo logo
AI Search

قربانی کی نیت کرنے کے بعد جانور بیچنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قربانی کی نیت کے بغیر خریدے ہوئے جانور پر قربانی کی نیت کرنے کے بعد بیچنا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید شرعی فقیر ہے، اُس نے ایک بکری خریدی تھی، اور خریدتے وقت اُس کی نیت قربانی کی نہیں تھی، بلکہ یہ ارادہ تھا کہ اُس سے دودھ حاصل کرے گا اور اُس کے بچے پالے گا۔ البتہ کچھ دن بعد زید نے یہ نیت کی کہ میں اس بکری کی قربانی کروں گا، اب وہ کسی ضرورت کی وجہ سے اُس بکری کو فروخت کرنا چاہتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا زید کے لیے اُس بکری کو بیچنا جائز ہے، یا اُس بکری کی قربانی کرنا اس پر لازم ہے؟

 نوٹ: زید نے مذکورہ بکری کی قربانی کی کوئی منت نہیں مانی تھی، بس ارادہ کیا تھا کہ اس کی قربانی کروں گا۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں زید پر اُس بکری کی قربانی کرنا شرعاً لازم نہیں ہے، لہذا وہ اُس بکری کو بیچ سکتا ہے، کیونکہ قوانینِ شرعیہ کے مطابق شرعی فقیر اگر جانور خریدتے وقت قربانی کی نیت سے جانور خرید لے، تو اُس پر خاص اُسی جانور کی قربانی واجب ہو جاتی ہے، لیکن یہ وجوب اُس وقت ثابت ہوتا ہے جب خریداری کے وقت ہی قربانی کی نیت موجود ہو، اگر خریدتے وقت قربانی کی نیت نہ ہو بلکہ بعد میں پیدا ہو، تو صرف بعد والی نیت سے قربانی لازم نہیں ہوتی۔ البتہ زید نے جو قربانی نیت کی تھی، ممکنہ صورت میں اُسے پورا کرنا بہتر ہے۔

فقیر کا قربانی کی نیت سے خریدا گیا جانور قربانی کے لیے متعین ہو جاتا ہے، چنانچہ علامہ مَرْغِینانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال : 593ھ/1196ء) لکھتے ہیں: ”الوجوب على الفقير بشرائه بنية الأضحية فتعينت“ ترجمہ: فقیر پر (قربانی کا) وجوب اُس کے جانور کو قربانی کی نیت سے خریدنے کی وجہ سے ہوتا ہے، لہذا (جب قربانی کرنے کی نیت سے جانور خریدے گا، تو) جانور متعین ہو جائے گا۔ (الھدایہ، جلد 4، صفحہ 530، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی)

جانور خریدا اور خریدتے وقت اُس کی قربانی کی نیت نہیں کی، بلکہ بعد میں نیت کی، تو اِس صورت میں قربانی لازم نہیں ہوگی، چنانچہ ”فتاویٰ عالمگیری“ اور ”بدائع الصنائع“ میں ہے: واللفظ للآخر ”اشترى شاة ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك أن يضحي بها لا يجب عليه سواء كان غنيا أو فقيرا؛ لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر“ ترجمہ: کسی نے بکری خریدی اور خریدتے وقت قربانی کی نیت نہیں کی، پھر بعد میں اُس نے اُس کی قربانی کرنے کی نیت کر لی، تو اس پر قربانی لازم نہیں ہوگی، خواہ وہ مالدار ہو یا فقیر؛ کیونکہ خریدتے وقت نیت موجود نہیں تھی، لہذا اس کا اعتبار نہیں۔ (بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 62، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال : 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”فقیر اگر بہ نیتِ قربانی خریدے تو اُس پر خاص اُسی جانور کی قربانی واجب ہو جاتی ہے، اگر جانور اس کی ملک میں تھا اور قربانی کی نیت کرلی یا خریدا مگر خریدتے وقت نیتِ قربانی نہ تھی، تو اُس پر وجوب نہ ہوگا۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 20، صفحہ 451، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال : 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”بکری کا مالک تھا اور اُس کی قربانی کی نیت کر لی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی، بعد میں نیت کر لی، تو اُس نیت سے قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (بھار شریعت، جلد 3، صفحہ 332، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی )

جو نیت اللہ عزوجل کے لیے کی جائے، اسے پورا کرنا چاہیے، چنانچہ امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا: ”ایک شخص نے وقت شروع کرنے روز گار کے، یہ خیال کر لیا کہ مجھ کو جو نفع ہوگا اس میں سولھواں حصہ واسطے ﷲ کے نکالوں گا“ اس کے جواب میں فرمایا: ” صرف خیال کر لینے سے وجوب تو نہیں ہوتا جب تک زبان سے نذر نہ کرے، ہاں جو نیت اللہ عزوجل کے لیے کی، اُس کا پورا کرنا ہی چاہیے۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 13، ص 594، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9994
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء