قربانی کی نیت کے بعد پالتو جانور تبدیل کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پالتو جانور میں قربانی کی نیت کرنے کے بعد اسے تبدیل کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے بکری کے دو بچے خریدے تھے، خریدتے وقت صرف پالنے کی نیت تھی قربانی کی نیت نہ تھی، البتہ کچھ دنوں بعد میں نے یہ نیت کرلی تھی کہ میں ان دونوں بکری کے بچوں کی قربانی کروں گا، لیکن معاملہ یہ ہوا کہ ایک بیمار ہوکر مرگیا اور ایک ابھی بیمار ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ اسے راہِ خدا میں صدقہ کردوں اور قربانی کے ایام میں دوسرے جانور خرید کر قربانی کروں، کیا میں اس جانور کو صدقہ کرسکتا ہوں یا اسی جانور کی قربانی کرنا مجھ پر لازم ہے؟ میں نے ان جانوروں کی ہی قربانی کرنے کی منت نہیں مانی تھی، صرف نیت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں غنی ہوں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ اس جانور کو صدقہ کرسکتے ہیں، آپ پر خاص اسی جانور کی قربانی کرنا لازم نہیں ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جانور اگرقربانی کی نیت سے نہ خریدا ہو، بلکہ کسی اور نیت سے خریدا ہو اور بعد میں اس جانور پر قربانی کی نیت کی ہو، تو فقط اس پر قربانی کی نیت کرلینے سے اسی کی قربانی واجب نہیں ہوجاتی، برابر ہے کہ یہ شخص فقیر ہو یا غنی ہو، البتہ قربانی کے ایام میں قربانی واجب ہونے کی شرائط پائی گئیں، تو قربانی واجب ہوگی، اس واجب کی ادائیگی کے لیے قربانی کے لائق دوسرا جانور خرید کر قربانی کرسکتے ہیں۔
نیز جو بکری کا بچہ مرگیا ہے، اس کے بدلے میں الگ سے آپ پر کوئی قربانی لازم نہیں ہے، بلکہ قربانی واجب ہونے کی شرائط پائی جانے کی صورت میں جو قربانی آپ پر واجب ہوگی، وہی قربانی کرنا واجب ہے۔
فقیر نے یا غنی نے بکرا خریدا اور خریدتے وقت اس بکرے پر قربانی کی نیت نہ تھی، بعد میں قربانی کی نیت کی، تو اس خاص بکرے کی قربانی کے حکم کو بیان کرتے ہوئے بدائع الصنائع میں ہے: ”اشترى شاة و لم ينو الاضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك أن يضحى بها لا يجب عليه سواء كان غنيا أو فقيرا لان النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر“ یعنی: اگر کسی نے بکری خریدی اور خریدتے وقت قربانی کی نیت نہیں تھی توبعد میں قربانی کی نیت کرنے سے اس شخص پر اس خاص جانور کی قربانی واجب نہ ہوگی، برابر ہے کہ یہ شخص غنی ہو یا فقیر، کیونکہ اس خاص جانور کی قربانی کرنے کی نیت خریدنے سے ملی ہوئی نہیں ہے اور خریدنے کے بعد اس خاص جانورکی قربانی کی نیت کا اعتبار نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 05، صفحہ 62، مطبوعہ کراچی)
اسی طرح رد المحتارمیں ہے: ”فلو کانت فی ملکہ فنوٰی ان یضحٰی بھا، او اشتراھا، و لم ینو الاضحیۃ وقت الشراء ثم نوی بعد ذٰلک لا یجب، لان النیۃ لم تقارن الشراء فلا تعتبر“یعنی: اگر بکری اپنی ملک میں تھی، تونیت کرلی کہ اس کی قربانی کرے گا یا خریدتے وقت قربانی کی نیت نہ کی ہو، پھر بعد میں قربانی کی نیت کی، تو اس سے اس پر قربانی واجب نہ ہوگی، کیونکہ خریدتے وقت نیت نہ کی، لہذا بعد کی نیت معتبر نہیں ہوگی۔ (رد المحتارعلی الدر المختار، جلد 9، صفحہ 532، مطبوعہ کوئٹہ)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: فقیر اگر بہ نیت قربانی خریدے، اس پر خاص اس جانور کی قربانی واجب ہوجاتی ہے۔ اگر جانور اس کی ملک میں تھا اور قربانی کی نیت کرلی یا خریدا، مگر خریدتے وقت نیت قربانی نہ تھی، تو اس پروجوب نہ ہوگا، غنی پر ایک اضحیہ خود واجب ہے اور اگر اور نذر بصیغہ نذر کرے گا، تو وہ بھی واجب ہوگا۔ اس عبارت میں بھی یہی ہے کہ واجب بالنذر ہوجائے گا، یعنی نذر کئے سے واجب ہوگا، نہ کہ غنی پر مجرد خریداری سے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 451، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اسی طرح صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہار شریعت میں لکھتے ہیں: بکری کا مالک تھا اور اوس کی قربانی کی نیت کر لی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی، بعد میں نیت کر لی، تو اس نیت سے قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (بھار شریعت، جلد 3، صفحہ 332، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
فتویٰ نمبر: Nor-11449
تاریخ اجراء: 15 شعبان المعظم 1442ھ / 29 مارچ 2021ء