زیر تعمیر مکان کی وجہ سے قربانی کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کرائے پر رہنے والے شخص پر زیر تعمیر مکان کی وجہ سے قربانی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں جاب کرتا ہوں اور کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، میرا 50 لاکھ مالیت کا ایک عدد مکان زیر ِتعمیر ہے، جس میں ابھی رہائش اختیار نہیں کی، نیز مجھ پر کوئی قرض نہیں ہے۔ اگر اس مکان کی قیمت کو شمار کریں، تو میں صاحبِ نصاب بنتا ہوں ورنہ نہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا اس زیرِ تعمیر مکان کی وجہ سے مجھ پر قربانی لازم ہوگی ؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ پر اس زیرِ تعمیر غیر رہائشی مکان کی وجہ سے قربانی لازم ہوگی۔
تفصیل یہ ہے کہ وہ مکان جس میں رہائش اختیار نہ کی ہو اور اس کی آمدنی پر گزر بسر بھی موقوف نہ ہو (مثلاً ایسا نہ ہو کہ اس مکان کو کرائے پر دیا ہو اور اس کی آمدنی تنہا یا دیگر ذرائع آمدنی سے مل کر گزر بسر میں خرچ ہو جاتی ہو)، وہ مکان حاجتِ اصلیہ سے زائد ہی شمار ہوتا ہے اور حکمِ شرعی یہ ہے کہ جس شخص کی ملکیت میں قرض سے فارغ، حاجتِ اصلیہ (وہ چیزیں جن کی انسان کو حاجت رہتی ہے، جیسے گھر کا ضروری ساز و سامان، سواری اور پہننے کے کپڑے وغیرہا ضروریاتِ زندگی) سے زائد اتنا مال موجود ہو کہ جس کی مالیت کم از کم ساڑھے باون (52.5) تولے چاندی کو پہنچ جائے، تو اس پر قربانی لازم ہوتی ہے اور چونکہ پوچھی گئی صورت میں وہ زیرِ تعمیر مکان حاجتِ اصلیہ سے زائد ہے اور قربانی کے نصاب کو بھی پہنچتا ہے، لہٰذا آپ پر قربانی لازم ہوگی۔
جس گھر میں رہائش نہ ہو، وہ حاجت سے زائد شمار ہوگا، چنانچہ ”خزانۃ المفتین“ میں ہے: ”وإذا كان له دار لا يسكنها ويؤجرها، أو لايؤجرها يعتبر قيمتها في الغنى وکذا اذا سکنھا وفضل عن سکناہ شیء یعتبر قیمۃ الفاضل فی النصاب“ ترجمہ: جب اس کے پاس گھر موجود ہو، (لیکن) اس میں رہائش نہ رکھی ہو، اسے اجرت پر دیا ہو یا نہ دیا ہو (بہر صورت) غنی (مالک نصاب) ہونے میں اس مکان کی قیمت کا اعتبار ہوگا، یونہی اگر وہ اس مکان میں رہتا ہو اور اس کی رہائش سے زائد جگہ موجود ہو، تو اضافی جگہ کو بھی نصاب میں شمار کیا جائے گا۔ (خزانۃ المفتین، کتاب الزکوۃ، فصل فی صدقۃ الفطر، صفحہ 76، المخطوط)
اسی طرح ”الجوہرۃ النیرۃ“ میں ہے: ”(ولا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا من أي مال كان) سواء كان النصاب ناميا أو غير نام حتى لو كان له بيت لا يسكنه يساوي مائتي درهم لا يجوز صرف الزكاة إليه وهذا النصاب المعتبر في وجوب الفطرة والأضحية“ ترجمہ: جو کسی بھی طرح کے مال سے نصاب کا مالک بن رہا ہو، اسے زکاۃ دینا، جائز نہیں، چاہے وہ نصاب مالِ نامی ہو یا غیرِ نامی، یہاں تک کہ اگر اس کے پاس گھر ہو، جس میں رہائش نہ رکھی ہو اور وہ دو سو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) کے برابر ہو، تو اسے زکاۃ دینا، جائز نہیں اور قربانی اور صدقہ فطر لازم ہونے کے لیے یہی نصاب کافی ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 1، صفحہ 131، مطبوعہ المطبعۃ الخیریۃ)
جس جگہ کی آمدنی پر گزر بسر موقوف نہ ہو، وہ حاجتِ اصلیہ نہیں، ورنہ وہ حاجتِ اصلیہ ہے، چنانچہ جس جگہ کی آمدنی پر گزر بسر موقوف ہو، اس کے مالک کے مستحقِ زکاۃ ہونے کے متعلق ردالمحتار میں ہے: ”سئل عن محمد عمن لہ ارض یزرعھا او حانوت یستغلھا او دار غلتھا ثلاثۃ آلاف ولاتکفی لنفقتہ ونفقۃ عیالہ سنۃ ؟ یحل لہ اخذ الزکوۃ وان کانت قیمتھا تبلغ الوفاً وعلیہ الفتوی“ ترجمہ: امامِ محمد رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا، جس کے پاس زمین ہو، جس کو کاشت کرتا ہے یا دُکان ہو جس کو کرایہ پر دیا ہو یا گھر ہو جس کا کرایہ تین ہزار ہو، لیکن یہ آمدن اس کے اور اس کے بچوں کے ایک سال کے اخراجات کے لیے کافی نہ ہو، تو (کیا اس کو زکاۃ دے سکتے ہیں) ؟ آپ عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے فرمایا: اس کو زکاۃ لینا جائز ہے، اگرچہ ان چیزوں کی قیمت ہزاروں میں ہو اور اسی پر فتوی ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الزکوۃ، جلد 3، صفحہ 347، مطبوعہ کوئٹہ)
جائیداد اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی مل کر گزر بسر میں خرچ ہو جاتی ہو، تو قربانی لازم نہیں، چنانچہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) سے سوال ہوا کہ ایک شخص برائے نام صاحب جائیداد ہے، سو روپیہ سالانہ آمدن کی جائیداد ہے۔ وہ شخص ماہوار کا نوکر بھی ہے۔ جو اس کی ضروریات دنیویہ کو کافی ہے۔ کسی سال میں کچھ نہیں بچتا، اس کی بیوی کے پاس تقریبا (معہ ۷۰) روپیہ کا زیور ہے۔ ۵۰ کا طلائی باقی نقرئی، اب ایسی صورت میں یہ تو ظاہر ہے کہ زکوٰۃ میاں بی بی دو میں کسی پر واجب نہیں مگر صدقہ فطر و قربانی ان دونوں یا ایک پر واجب ہے یانہیں؟ اور ہے تو کس پر؟ تو آپ علیہ الرحمۃ نے جوابا ارشاد فرمایا ”ستر روپیہ کا زیور اگر مملوک زن ہے اور اس پر قرض نہیں، تو اس پر نہ صرف اضحیہ وصدقہ فطر بلکہ زکوٰۃ بھی فرض ہے کہ اگر چہ (صہ) کے سونے (عہ) کی چاندی میں کسی کی نصاب کامل نہیں، مگر سونے کو چاندی کرنے سے چاندی کی نصاب کامل مع زیادہ ہو جائے گی، ہاں شوہر پر صدقہ واضحیہ بھی نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 366-367، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
قربانی کے نصاب کے متعلق ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ/1191ء) لکھتے ہیں: ”فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه و مالا يستغنی عنه وهو نصاب صدقة الفطر“ ترجمہ: (قربانی واجب ہونے کے لیے) مالداری کا اعتبار کرنا ضروری ہے اور مالداری سے مراد یہ ہے کہ اُس کی ملکیت میں 200درہم (ساڑھے باون تولے چاندی) یا 20 دینار (ساڑھے سات تولے سونا) ہو یا رہائش، گھریلو سامان، کپڑے، خادم، سواری، ہتھیار اور ضروری چیزوں کے علاوہ کوئی ایسی چیز ہو، جس کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کو پہنچتی ہو اور یہی صدقہ فطر کا نصاب ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 5، کتاب التضحیۃ، صفحہ 64، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو، جس کی قیمت دو سو درہم ہو، وہ غنی ہے، اس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان، جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے، ان کے سوا جو چیزیں ہوں، وہ حاجت سے زائد ہیں۔“ (بھار شریعت، جلد 3، حصه 15، صفحہ 333، مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9996
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء