بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے غلطی سے روزہ کی حالت میں ناک میں دوائی ڈال لی یعنی مجھے یہ معلوم تھا کہ میں روزہ سے ہوں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس صورت میں میرے لئے کیا حکم ہوگا؟
پوچھی گئی صورت میں جب روزہ ہونا یاد تھا، اس کے باوجود ناک میں دوا ڈالی اگرچہ غلطی سے ڈالی ہو، تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ گیا، اس روزہ کی قضا لازم ہوگی البتہ پوچھی گئی صورت میں کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ لہٰذا رمضان کا مہینا گزرنے کے بعد اس روزے کی قضا کرنا آپ کے ذمہ پر لازم ہوگا۔ (بدائع الصنائع، 2 / 204 ملتقطاً- تنویر الابصار و در مختار، 3/ 432 تا 439- فتح باب العنایہ، 1/ 570 - بہار شریعت، 1 / 987)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطّاری مدنی
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ جنوری 2025ء