ہیئر ٹرانسپلانٹ اور سر کا مسح
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہیئر ٹرانسپلانٹ کروایا ہو تو سر کے مسح کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک شخص نے گنجے پن کی وجہ اپنے سر میں اپنے ہی بال نکلوا کر سر میں مختلف حصوں میں لگائے ہیں جس کی وجہ سے سر میں زخم ہوگئے ہیں، ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اس کے اوپر ہاتھ نہیں پھیرنا ورنہ ایک تو بال اتر جائیں گے دوسرا اس کے زخم بھی خراب ہوجائیں گے، ڈاکٹر نے کہا ہے کہ جب وضو میں مسح کرنا ہو تو ہاتھ پھیرنے کی بجائے، شاور سے سر پر پانی ڈال لیا جائے، لیکن ہاتھ نہ پھیرا جائے تو کیا اس طرح شرعاً وضو ہوجائے گا یا ہاتھ پھیرنا ہی ضروری ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر سر کے کم از کم چوتھائی حصے تک پانی کی تری پہنچ جائے، اگرچہ ہاتھ نہ پھیرا جائے، تب بھی وضو ہو جائے گا، کیونکہ سر کے مسح میں اصل مقصود، سر کے چوتھائی حصے تک تری پہنچانا ہے۔ اسی لیے فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص بارش میں بھیگ جائے یا تالاب میں اس طرح نہائے کہ اس کے سر کے بال تر ہو جائیں، تو سر پر الگ سے ہاتھ پھیرے بغیر بھی مسح کا فرض مکمل ہوجاتا ہے۔
البتہ ایسی صورت میں اگرچہ وضو درست ہو جائے گا، لیکن مسح کی سنت ادا نہیں ہوگی کیونکہ سنت طریقہ یہ ہے کہ سر پر ہاتھ پھیر کر مسح کیا جائے۔ ہاں اگر یہاں ہاتھ پھیرنے میں زخم خراب ہونے کا واقعی اندیشہ ہے تو اب ہاتھ پھیرنے میں حرج نہیں۔
یہ یاد رہے کہ اگرچہ فرض مسح کی ادائیگی میں سر کے چوتھائی حصہ پر تری پہنچا دینا ہی کافی ہے، لیکن بلا ضرورت شرعی ہاتھ سے مسح نہ کرنا مکروہ وخلاف سنت ہے کہ شریعت مطہرہ نے سر کے چوتھائی حصہ پر تری پہنچانے کے ساتھ ساتھ، مسح کے عمل کا بھی حکم دیا ہے اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا طریقہ بھی مسح میں سر پر ہاتھ پھیرنا ہے۔ لہٰذا بغیر کسی عذر کے مسح میں ہاتھ پھیرنے کے عمل کو ترک نہ کیا جائے،بلکہ سنت طریقے پر ہی عمل کیا جائے۔
اور یہ بھی یاد رہے کہ انسانی بالوں کے ذریعے سرکے گنجے حصہ کی پیوندکاری کرنا، خواہ اپنے یاکسی دوسرے انسان کے بالوں سے ہو، یہ ناجائزو حرام ہے، لہذا اب اس گناہ سے توبہ کرنا بھی لازم ہے۔
وضو میں مسح کرنے کے بارے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَامْسَحُوْا بِرُءُ وْسِکُمْ﴾ ترجمہ کنزا لعرفان: ''اور سروں کا مسح کرو۔'' (القرآن الکریم، پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 6)
ہاتھ سے سر کا مسح کرنا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اس بارے میں سنن ابو داؤد کی حدیث مبارک میں ہے:عن عمرو بن يحيى المازني، عن أبيه أنه قال لعبد اللہ بن زيد بن عاصم، و هو جد عمرو بن يحيى: هل تستطيع أن تريني كيف كان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلم يتوضأ؟ فقال عبد اللہ بن زيد: نعم، فدعا بوضوء فأفرغ على يديه فغسل يديه، ثم تمضمض و استنثر ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاثا، ثم غسل يديه مرتين مرتين إلى المرفقين، ثم مسح رأسه بيديه فأقبل بهما و أدبر بدأ بمقدم رأسه ثم ذهب بهما إلى قفاه، ثم ردهما حتى رجع إلى المكان الذي بدأ منه، ثم غسل رجليه
ترجمہ: حضرت عمرو بن یحییٰ مازنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا:کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کس طرح وضو فرمایا کرتے تھے؟حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "ہاں" پھر انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، چنانچہ پہلے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ دھوئے۔ پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑا۔ اس کے بعد تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دو دو مرتبہ دھوئے۔ پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کیا، دونوں ہاتھوں کو سر کے اگلے حصے سے شروع کیا، پھر انہیں گدی تک لے گئے، اس کے بعد واپس اسی جگہ لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔ آخر میں دونوں پاؤں دھوئے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الطہارۃ، ج 1، ص 45، مطبوعہ ہند)
وضومیں مسح کامعنی تری پہنچاناہے اس حوالے سے علامہ شمس الدین ابن کمال پاشا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی کتاب الإيضاح في شرح الإصلاح میں لکھتے ہیں: و في الشرع: إصابة البلل سواء كانَ المصاب عضواًأو غيره، كالخف و السيف و نحوه ، و سواءٌ كانَتِ الإصابة باليد أو بغيرها، يرشدك إلى هذا أَنَّهُ لو أصابَ رأسہ أو خفہ من ماء المطر قدر المفروض أجزأه مسحہ باليد أو و لم يمسحه"ترجمہ: اور شریعت میں مسح سے مراد تری کا پہنچانا ہے، خواہ جس پر تری پہنچائی جا رہی ہے وہ عضو ہو یا اس کے علاوہ ہو جیسے موزہ اور تلوار وغیرہ، اور خواہ تری ہاتھ کے ذریعے پہنچائی جائے یا کسی اور چیز کے ذریعے، اس بات پر یہ مسئلہ دلیل ہے کہ اگر کسی کے سر یا موزے پر فرض مقدار کے برابر بارش کا پانی پہنچ جائے، تو مسح کافی ہو جائے گا چاہے اس نے ہاتھ سے مسح کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ (الإيضاح في شرح الإصلاح،ص15،بیروت)
شیخ الاسلام والمسلمین امام اہل سنت الشاہ احمدرضاخان علیہ الرحمۃ اس مسئلہ پرتفصیلی کلام کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:اقول: معنی المسح الواجب فی الوضوء اصابۃ بلۃ و لوفی ضمن اسالۃ لامایبانھا و الالما تأدی بغسل الراس و اصابۃ المطر و الانغماس و ھو باطل قطعا قال فی الفتح و الحلیۃ و البحر و غیرھا الاٰلۃ لم تقصد الاللایصال الی المحل فاذا اصابہ من المطر قدر الفرض اجزاء (اقول) یعنی میں بیان کرتا ہوں کہ وضو میں جو مسح واجب ہے اس کا معنی ہے تری پہنچانا اگرچہ پانی بہانے ہی کے ضمن میں ہو۔ اس کا معنٰی وہ نہیں جو پانی بہانے کے مباین ہو ورنہ یہ (فرض مسح) سر کو دھونے، بارش پہنچنے، اور غوطہ کھانے سے ادا نہ ہوتا۔ اور یہ قطعاً باطل ہے۔ فتح القد یر، حلیہ اور بحر و غیرہا میں ہے: ذریعہ و آلہ صرف محل تک پہنچانے کے لئے مقصود ہے۔ تو اگر مقدار فرض پر بارش کا پانی پہنچ جائے کافی ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 4، ص 237، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مسح میں اصل مقصود فعل نہیں، بلکہ سر پر تری پہنچانا ہے اس بارے میں حضرت علاء الدين، أبو بكربن مسعود الكاساني الحنفي رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: و لو أصاب رأسه المطر مقدار المفروض أجزأه مسحه بيده أو لم يمسحه؛ لأن الفعل ليس بمقصود في المسح، و إنما المقصود هو وصول الماء إلى ظاهر الشعر، و قد وجد" ترجمہ: اگر وضو کرنے والا کے سر پر بارش کا پانی فرض حصے کی بقدر پہنچ گیا تو یہ اس کو مسح سے کفایت کرے گا چاہے اس نے اپنے ہاتھ سے مسح کیا ہو یا نہ کیا ہو کیونکہ مسح میں مقصود فعل نہیں ہے بلکہ مقصود بالوں کے ظاہر پر پانی کا پہنچنا ہے وہ یہاں پایا گیا۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج 1، ص 5، بیروت)
وضومیں مسح کی جگہ سردھونے کے مکروہ ہونے کے حوالے سے فتاوی ہندیہ اورمحیط برہانی میں ہے: (و الفظ للاخر) و إذا غسل الرأس مع الوجه أجزأه عن المسح هكذا ذكر شيخ الإسلام رحمه اللہ؛ لأن في الغسل مسح و زيادة و لكن يكره لأنه خلاف ما أمر به" یعنی: جب چہرے کے ساتھ سر بھی دھولیا تو وہ اسے مسح سے کفایت کرے گایعنی مسح کی ضرورت نہیں اسی شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا کیونکہ دھونے میں مسح بھی ہے اور اس سے زیادت بھی لیکن اس طرح کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ مامور بہ (جس کا حکم دیا گیا ہو) کی خلاف ورزی ہے۔ ( فتاوی ہندیہ، ج 1، ص 6، بیروت) (المحيط البرهاني في الفقه النعماني، ج 1، ص 47، بيروت)
ہاتھ سے مسح نہ کرنے کے حوالے سے اما م اہل سنت اعلی حضرت الشاہ احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن تحریرفرماتے ہیں: شبنم: اقول: یعنی جبکہ پتّوں پھُولوں پر سے یا پھیلے ہوئے کپڑے نچوڑ کر اتنی جمع کر لی جائے کہ کسی عضو یا بقیہ عضو کو دھو دے مثلاً روپے بھر جگہ پاؤں میں باقی ہے اور پانی ختم ہوگیا اور شبنم جمع کئے سے اتنی مل سکتی ہے کہ اُس جگہ پر بَہ جائے تو تیمم جائز نہ ہوگا یا اوس میں سر برہنہ بیٹھا اور اس سے سر بھیگ گیا مسح ہوگیا اگر ہاتھ نہ پھیرے گا وضو ہوجائیگا اگرچہ سنّت ترک ہوئی یوں ہی شبنم سے تر گھاس میں موزے پہنے چلنے سے موزوں کا مسح ادا ہوجائے گا جبکہ شبنم سے ہر موزہ ہاتھ کی چھنگلیا کے طول و عرض کے سہ چند بھیگ جائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 2، صفحہ 460، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
انسانی بالوں کی پیوندکاری کے حرام ہونے کے بارے میں صحیح بخاری میں ہے: عن عائشۃ رضی اللہ تعالی عنہاان جاریۃ من الانصار تزوجت و انھا مرضت فتمعط شعرھا فأرادوا ان یصلوھا فسألوا النبی صلی اللہ تعالی علیہ و سلم فقال لعن اللہ الواصلہ و المستوصلۃ'' ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت ہے کہ انصارکی ایک لڑکی کی شادی ہوئی اوروہ بیمار ہوگئی تو اس کے سر کے بال کسی بیماری سے جھڑ گئے، پس لوگوں نے ارادہ کیاکہ اس کے سر کے بالوں میں کسی دوسری عورت کے سر کے بالوں کو جوڑ دیں، تو انہوں نے یہ مسئلہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ و سلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالی بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی پر لعنت فرماتا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب وصل الشعر، ج 02، ص 878، مطبوعہ کراچی)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے: ذھب الجمہور الفقہائ: الحنفیۃ فی المذھب و المالکیۃ و الشافعیۃ و الحنابلۃ فی المذھب الی ان وصل الشعر بشعر آدمی حرام، سواء کان شعر امرأۃ او شعر رجل و سواء کان شعر محرم او زوج او غیرھما'' ترجمہ: جمہور فقہاء: حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا مؤقف یہ ہے کہ بالوں میں انسان کے بال لگانا حرام ہے، خواہ وہ عورت کے بال ہوں یامرد کے، خواہ محرم مردکے یا شوہر کے یا ان کے علاوہ کے ہوں (سب حرام ہے)۔ (موسوعہ فقہیہ کویتیہ، ج 42، ص 345، کویت)
بحر الرائق، تبیین الحقائق، اختیار لتلیل المختار، درمختار اور فتاوی ہندیہ میں ہے: (واللفظ للآخر): و وصل الشعر بشعر الاٰدمی حرام سواء کان شعرھا او شعرغیرھا'' ترجمہ: آدمیوں کے بالوں کے ساتھ بالوں کو پیوند کرنا حرام ہے خواہ وہ بال اسی کے ہوں یاکسی دوسرے آدمی کے۔ (فتاوی ہندیہ، ج 05، ص 358، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10077
تاریخ اجراء: 17 محرم الحرام 1448ھ / 03 جولائی 2026ء