کسی سید کو زکوۃ کی مد میں تحائف دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دو اسلامی بہنوں کو زکوۃ کی مد میں کچھ سامان و رقم دی، ان میں ایک سیدہ ہے، تو حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
دو اسلامی بہنوں کو ان کے ایک رشتہ دار کچھ جوڑے اور رقم وغیرہ تحفہ دے گئے اور کہا کہ یہ میری طرف سے تحفہ ہیں، جبکہ ان کے گھر کی عورت نے بتایا کہ اس نے زکوۃ دی ہے یہ ہر سال ایسے ہی دیتے ہیں، گھر ذاتی ہے مگر کچھ سونا چاندی نہیں ہے بس 30 ہزار کے قریب رقم جمع رکھی ہوگی دونوں کے پاس، اب دینے والے سے وضاحت لینا ضروری ہےاور ایک اسلامی بہن ہے سیدہ ہیں تو کیا حکم؟
جواب
جو اسلامی بہن سیدہ نہیں ہیں اگر وہ شرعی فقیر ہیں یعنی ان کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد مال حاجتِ اصلیہ (ضروریات زندگی) کے علاوہ نہ ہو نیز وہ ہاشمی بھی نہ ہوں تو انہیں اگر زکوۃ دی بھی گئی ہے تو کوئی حرج نہیں مگرجو اسلامی بہن سیدہ ہیں ان کو نہ زکوۃ دینا جائز ہے اور نہ ان کے لیے لینا جائز ہے اور نہ دینے والے کی زکوۃ ادا ہو گی لہٰذا ان کو دیے گئے تحائف کے متعلق وضاحت لینا ضروری ہے کہ اگر زکوۃ ہے تو انہیں واپس کردیں یہ بتا کر کہ ہم سید ہیں اور اگر زکوۃ نہیں ہے تو انکے لئے بھی لینا جائز ہے۔
نوٹ: حاجت اصلیہ کے حوالے سے صدرالشریعہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: حاجت اصلیہ یعنی جس کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے ۔۔۔ جیسے رہنے کا مکان جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے خانہ دار ی کے سامان سواری کے جانور خدمت کے لیے لونڈی غلام، آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں کھانے کے لیے غلہ۔ (ملتقطا) (بہار شریعت، جلد: 1، صفحہ :880، 881، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1511
تاریخ اجراء: 29 شعبان المعظم 1445 ھ/11 مارچ 2024 ء