logo logo
AI Search

کیا عالمِ دین کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عالمِ دین کو زکوٰۃ دینا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا کسی عالم کو بھی زکوۃ دی جا سکتی ہے؟

جواب

عالم صاحب  اگر فقیرِ شرعی  ہیں (یعنی ان کے پاس قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی قیمت کے برابر کسی قسم کا مال موجود نہیں ہے) اور وہ سید و ھاشمی بھی نہیں ہیں، تو انہیں  زکوٰۃ  اور صدقاتِ واجبہ (صدقہ فطر و نذر و کفارہ وغیرہ) بھی دئیے جا سکتے ہیں اور اگر عالم صاحب  فقیرِ شرعی نہیں، یا ھاشمی ہیں تو انہیں زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ نہیں دے سکتے، ان کے علاوہ نفلی صدقہ دے سکتے ہیں۔

 اللہ عز وجل قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے : ﴿اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰکِیْنِ۔۔۔﴾ ترجمۂ کنز الایمان: ”زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نرے نادار۔۔۔“ (پارہ 10، سورۃ التوبہ، آیت 60)

فقیر کے مستحقِ زکوٰۃ ہونے کے متعلق تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”مصرف الزکوٰۃ و العشر ۔۔۔ ھو فقیر“ ترجمہ: زکوٰۃ اور عشر کا مستحق فقیر ہے۔

  اس کے تحت رد المحتار میں فقیر کے صدقاتِ واجبہ کا مستحق ہونے کے متعلق ہے:

”و ھو مصرف ایضاً لصدقۃ الفطر و الکفارۃ و النذر و غیر ذلک من الصدقات الواجبۃ“

ترجمہ: فقیر صدقہ فطر، کفارے، نذر اور دیگر صدقاتِ واجبہ کا بھی مستحق ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزکوٰۃ، باب المصرف، جلد 3، صفحہ 333، مطبوعہ کوئٹہ)

زکوٰۃ کا ایک مصرف شرعی فقیر بھی ہے۔ جیسا کہ تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:

”(باب المصرف)ای مصرف الزکاۃ و العشر۔۔۔ (ھو فقیر، و ھو من لہ ادنی شیء)ای دون نصاب“

یعنی زکوٰۃ اور عشر کا ایک مصرف فقیر بھی ہے اور فقیر سے مراد وہ شخص ہے جو نصاب سے کم مال کا مالک ہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاۃ، ج 03، ص 333، مطبوعہ کوئٹہ، ملخصاً)

زکوۃ نام ہے کسی غیر ہاشمی مسلمان فقیر کو مال کا مالک بنا دینے کا۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:

’’ أما تفسیرھا فھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی‘‘

ترجمہ: زکوۃ کا معنی یہ ہے کہ مسلمان غیر ہاشمی فقیر کو مال کامالک بنا دیا جائے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الزکوۃ ، الباب الاول، جلد1 ، صفحہ 170، دار الفکر، بیروت)

  بہارِ شریعت میں ہے: ”فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ ہو مگر نہ اتنا کہ نصاب کو پہنچ جائے یا نصاب کی قدر ہو تو اُس کی حاجتِ اصلیہ میں مستغرق ہو، مثلاً رہنے کا مکان ، پہننے کے کپڑے، خدمت کے لیے لونڈی غلام، علمی شغل رکھنے والے کو دینی کتابیں جو اس کی ضرورت سے زیادہ نہ ہوں۔“ (بہارِ شریعت، ج 01، ص 924، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاھد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3658
تاریخ اجراء: 14 رمضان المبارک 1446 ھ/15 مارچ 2025 ء