کیا داماد کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟
اپنے دامادکوزکاۃ دینا کیسا ہے ؟
مجیب: عبدالرب شاکرعطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-1029
تاریخ اجراء: 02صفرالمظفر1444 ھ/30اگست2022 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کيا سسر اپنے داماد کو اپنی زکاة دے سکتا ہے؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
داماد اگر مستحق زکاۃ (یعنی اس کی ملکیت میں حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد 52.5 تولہ چاندی یا اتنی مالیت کا کسی بھی قسم کا مال نہیں اور یہ شخص سید یا ہاشمی بھی نہیں) ہے تو سسر اسے اپنی زکاۃ دے سکتاہے۔ ردالمحتارمیں ہے:
ویجوز دفعھالزوجۃ ابیہ وابنہ وزوج ابنتہ
ترجمہ: اور زکاۃ دینا جائز ہے، اپنے باپ کی بیوی کو، اپنے بیٹے کی بیوی کو اور اپنی بیٹی کے شوہرکو۔ (ردالمحتارمع الدرالمختار، کتاب الزکاۃ، ج03، ص344، دارالمعرفۃ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم