logo logo
AI Search

جس عورت کا کوئی کمانے والا نہ ہو اسے زکوۃ دینا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس عورت کا کوئی کمانے والا نہ ہو اسے زکوۃ دینے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جس عورت کا کوئی کمانے والا نہ ہو، کیا اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟

جواب

اگر وہ عورت شرعی فقیر، مستحق زکوۃ ہو (یعنی جس کے پاس قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی قیمت کے برابر مال موجود نہیں ہے اور وہ سید و ہاشمی اور اپنے اصول وفروع میں سے بھی نہیں)، تو اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں۔ اگر بیان کردہ شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جا رہی تو اس کو زکوۃ نہیں دے سکتے۔

اللہ عز وجل قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰکِیْنِ۔۔۔﴾ ترجمۂ کنز الایمان: ”زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نرے نادار۔۔۔“ (القرآن، پارہ10، سورۃ التوبۃ، آیت: 60)

زکوٰۃ شرعاً مال کے ایک معین حصے کا شرعی فقیر کو مالک بنانا ہے، چنانچہ تنویر الابصار میں ہے

”ھی تملیک جزء مال عینہ شارع من مسلم فقیر غیر ھاشمی ولا مولاہ مع قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالی“

ترجمہ: اللہ عزوجل کی رضا کے لئے شارع کی طرف سے مقرر کردہ مال کے ایک جزء کا مسلمان فقیر کو مالک کر دینا، جبکہ وہ فقیر نہ ہاشمی ہو اور نہ ہی ہاشمی کا آزاد کردہ غلام، اور اپنا نفع اس سے بالکل جدا کر لیا جائے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد 3، صفحہ 203 تا 206، مطبوعہ: کوئٹہ)

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے

”مصرف الزکاۃ و العشر۔۔۔ (ھو فقیر، و ھو من لہ ادنی شیء)ای دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة“

ترجمہ:  زکوٰۃ اور عشر کا مصرف فقیر ہے، فقیر شرعی وه ہے جس کے پاس قلیل مال ہو یعنی نصاب سے کم یا نصاب کی مقدار غیر نامی ہو جو اس کی حاجت میں مستغرق ہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکوٰۃ، باب المصرف، جلد  3، صفحہ  333، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4831
تاریخ اجراء:23 رمضان المبارک1447ھ/13 مارچ 2026ء