logo logo
AI Search

کیا بہنوئی کو زکوۃ دینا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بہنوئی کو زکوۃ دینا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر بہن صاحب نصاب ہے لیکن بہنوئی صاحب نصاب نہیں تو کیا اسے زکوۃ دے سکتے ہیں؟

جواب

بہنوئی اگر واقعی مستحقِ زکوۃ ہے یعنی اس کی ملکیت میں حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر کسی قسم کا مال نہیں اور وہ سید یا ہاشمی بھی نہیں تو اسے زکوۃ دے سکتے ہیں۔

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ کسی شخص نے اپنے مال میں سے زکوۃ نکالی وُہ روپیہ ان شخصوں کو دینا چاہئے یا نہیں؟ ۔۔۔ یہ کہ اگر بہنوئی کو کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں؟

تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: بشرطِ مذکورہ جائز ہے (یعنی جبکہ غنی ہاشمی نہ ہو)۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 251،252، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-2649
تاریخ اجراء: 10 شوال المکرم 1445 ھ/19 اپریل 2024 ء