جہیز کی نیت سے خریدے مکان پر زکوۃ ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بیٹی کو جہیز میں دینے کی نیت سے خریدے گئے مکان پر زکوٰۃ کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک مکان اس نیت سے خریدا کہ بیٹی کو جہیز میں دیں گے، پھر نیت بدل گئی اور یہ نیت ہوگئی کہ اس کو بیچ کر دوسری جگہ مکان لیں گے، لیکن ابھی تک اس مکان کو بیچا نہیں بلکہ کرائے پر دیا ہوا ہے، اس مکان پر زکوۃ ہوگی یا نہیں؟
جواب
اس مکان پر زکوۃ نہیں ہوگی، اس لیے کہ مکان پر زکوۃ اس صورت میں بنتی ہے جبکہ اسے بیچنے کے ارادے سے خریدا جائے۔ چونکہ یہ بیٹی کو جہیز میں دینے کے لئے خریدا گیا تھا بیچنے کی نیت نہیں تھی، لہٰذا یہ مالِ تجارت میں داخل نہیں ہے اس لیے اس مکان پر کوئی زکوۃ نہیں۔ بلکہ اگر بالفرض اس پلاٹ کو آپ تجارتی مقصد سے خریدتے، تب بھی چونکہ آپ نے اسے کرائے پر دے دیا، اس لیے اس مکان پر پھر بھی زکوۃ نہیں بنتی۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1575
تاریخ اجراء :11 رمضان المبارک 1445 ھ/22 مارچ 2024 ء