کمیٹی نکلی مگر قسطیں باقی ہیں تو زکوۃ کا طریقہ؟
کمیٹی نکل آئی لیکن کئی قسطیں ادا کرنا باقی ہیں، تو زکوٰۃ کا حکم
مجیب:مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-1613
تاریخ اجراء:14رمضان المبارک1445 ھ/25مارچ2024 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں نے 25 ماہ کی کمیٹی ڈالی ہے میری کمیٹی 7 ویں ماہ نکل آئی تھی زکوٰۃ کے سال کا نصاب رمضان میں ہم کرتے ہیں جب کمیٹی کا 10 واں ماہ چل رہا ہے، اب اس کمیٹی پر کتنی زکوٰۃ مَیں نے دینی ہے؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
کمیٹی کی بقیہ واجب الادا قسطیں مائنس کرنے کے بعد اگر مال نصاب (52.5 تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر یا اس سے زیادہ بچ رہا ہے یا دوسرے مالِ زکوٰۃ (سونا، چاندی، پرائز بانڈز) سے مل کر نصاب (52.5 تولہ چاندی کی قیمت) کو پہنچ رہا ہے تو (دیگر شرائطِ زکوٰۃ کی موجودگی میں) سال گزرنے پر کل مال کا چالیسواں حصہ (2.5 فیصد) بطورِ زکوٰۃ دینا فرض ہے، اور جس مہینے کی جس تاریخ کو سال مکمل ہورہا ہے اسی مہینے کے اسی دن زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوگی بلاوجہِ شرعی اس میں معمولی تاخیر بھی ناجائز و گناہ ہے۔ اگر رمضان المبارک کے مہینے میں سال مکمل ہو رہا ہے تو جس تاریخ کو سال مکمل ہو اس تاریخ کو ادائیگی کرنی ہوگی، اور اگر سال رمضان المبارک سے پہلے مکمل ہو رہا ہے تو اسی وقت ادائیگی واجب رہے گی، رمضان المبارک تک تاخیر نہیں کرسکتے، کریں گے تو گنہگار ہوں گے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم