دوکان کی ایڈوانس رقم پر زکوٰۃ کا حکم؟
دوکان کے لئے دئیے گئے ایڈوانس پر زکوٰۃکا حکم
مجیب: ابومصطفی محمد کفیل رضا مدنی
فتوی نمبر: Web-423
تاریخ اجراء: 03محرم الحرام1443 ھ/02اگست2022 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا دوکان کے ایڈوانس پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
ایڈوانس کی رقم قرض کی حیثیت رکھتی ہے اور قرض کی رقم پر سال بہ سال زکوٰۃ فرض ہوتی رہتی ہے، البتہ ادائیگی فی الحال فرض نہیں ہو گی، ہاں جوں ہی کم از کم نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہوگا اس پر بھی زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہو جائے گی اور جتنے سالوں بعد یہ رقم وصول ہوتی ہے، ان سالوں میں سے ہر سال کی زکوٰۃ اس میں سے ادا کی جائے گی۔
یہ بھی یاد رہے کہ اس رقم کے علاوہ جتنا نصابِ زکوٰۃ سال گزرنے پر ہوگا، اس سب پر زکوٰۃکی ادائیگی فوراً ہی فرض ہوگی۔ یہ زکوٰۃ اس پر لازم ہوگی، جس کی رقم ہے یعنی کرایہ دار۔ مالک مکان جس کے پاس یہ رقم بطورِ قرض ہے ،اس پر اس کی زکوٰۃ لازم نہیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم