logo logo
AI Search

دوکان کے پرانے سوٹ زکوٰۃ میں دینے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دوکان میں موجود تین سال پرانے سوٹ زکوٰۃ میں دینے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میری کپڑے کی دکان ہے میرے پاس دو تین سال پرانے  ڈیزائن کے لیڈیز سوٹ پڑے ہیں جو کہ کم بک رہے ہیں کیا میں وہ سوٹ زکوٰۃ میں دے سکتا ہوں؟

جواب

پرانے ڈیزائن کے سوٹ اگرچہ زکوٰۃ میں دئیے جا سکتے ہیں مگر ان کی وہی قیمت زکوٰۃ میں شمار کی جائے گی جو اس وقت مارکیٹ میں رائج ہو۔ عموماً آؤٹ آف سیزن کپڑوں کی قیمت میں کافی کمی آ جاتی ہے۔ نیز  کپڑوں کی لوڈنگ ان لوڈنگ یا اس کے علاوہ اس پر آنے والے اخراجات زکوٰۃ میں شمار نہیں ہوں گے۔

   یہ واضح رہے کہ صدقہ کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے میں حتی الامکان عمدہ چیز دی جائے کہ اس کے اپنے فضائل قرآن و حدیث میں بیان کیے گئے ہیں۔

   کپڑوں کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق زکوۃ ادا ہونے سے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: ”زکوٰۃ میں روپے وغیرہ کے عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلّہ مکا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوٰۃ مالک کردینا جائز و کافی ہے، زکوٰۃ ادا ہوجائیگی، جس قدر چیز محتاج کی مِلک میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجرا ہوگی بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 69 ، 70، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2056
تاریخ اجراء: 16 جمادی الاولیٰ 1446 ھ/19 نومبر 2024 ء