کیا زکوٰۃ میں پائے دینے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی؟
گائے کے پائے زکوۃ کی مد میں دینا
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-1306
تاریخ اجراء: 06جمادی الثانی1445 ھ/20دسمبر2023 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی مدرسہ میں زکوۃ کی مد میں گائے کے پائے دئیے جائیں تو زکوۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
اگر زکوۃ کی مد میں گائے کے پائے دینا چاہ رہے ہیں، تو ان کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق زکوۃ ادا ہوجائے گی، البتہ اس کا شرعی فقیر کو مالک بنانا ضروری ہوگا، لہٰذا اگر مدرسے میں دینا چاہ رہے ہیں تو وہاں کے مہتمم کو پہلے بتا دیا جائے کہ یہ زکوۃ کی مد میں ہیں، تا کہ وہ اس کی ادائیگی کا درست انتظام کر سکیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم