logo logo
AI Search

قرض کی جگہ گروی رکھے سونے پر زکوٰۃ ہوگی؟

گروی رکھے ہوئے سونے پر زکوۃ کا کیا حکم ہے ؟

مجیب: ابو احمد محمد انس رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-1515
تاریخ اجراء: 29شعبان المعظم1444 ھ/22مارچ2023 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

زید نے اپنی بیوی کا سونا رکھوا کر قرض لیا ہے تو زید کی بیوی پر سونے کی زکوۃ ہوگی یا نہیں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

صوتِ مسئولہ میں اگر سونا رہن (گروی) کے طور پر رکھوایا گیا ہے تو جب تک رہن رہے گا، اتنی مدت کی اس کی زکوۃ کسی پر لازم نہیں ہوگی۔ ہاں جب قبضہ میں واپس آئے گا تو اس کے بعد سے جس کی ملکیت وہ سونا ہے، شرائط پائے جانےکی صورت میں اس پر زکوۃ لازم ہوگی۔

نوٹ: اور یہ خیال رہے کہ بینک یا کسی اور ادارے سے یوں قرض لینا کہ اس پر کوئی نفع دینا پڑے یہ  سود ہے اور سود کا لین دین ناجائز و حرام ہے لہذا اس سے بچنا لازم ہے۔ 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم