logo logo
AI Search

وہ رشتہ دار جنہیں زکوۃ دی جا سکتی ہے؟

جن کی کفالت شرعاً واجب ہو، انہیں زکوۃ دینا

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-2662
تاریخ اجراء: 15شوال المکرم1445 ھ/24اپریل2024 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جن کی کفالت ہمارے ذمے  ہے، کیا انہیں زکوۃ دے سکتے ہیں؟ کسی نے کہا ہے کہ جس کی ہم کفالت کرتے ہیں، اس کو زکوۃ نہیں دے سکتے، تو براہ کرم اس حوالے سے رہنمائی فرمائیے۔

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

وہ رشتہ دار جنہیں زکوۃ دی جا سکتی ہے، مثلاً بہن بھائی، ان کی اولاد وغیرہ، تو اگر ان کا نفقہ زکوۃ دینے والے کے ذمہ پر شرعاً واجب ہو، تب بھی انہیں زکوۃ دے سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ زکوۃ کو نفقہ میں شمار نہ کرے۔ نیز اس رشتہ دار کا مستحق زکوۃ ہونا بھی ضروری ہے۔

نوٹ: مستحقِ زکوۃ سے مراد ہے شرعی فقیر ہونا اور غیر ہاشمی ہونا ہے۔ (یاد رہے! عباسی، اعوان اور علوی کا شمار بھی بنو ہاشم میں سے ہوتا ہے، تو جس طرح سادات کرام کو صدقہ واجبہ نہیں دے سکتے، ان کو بھی نہیں دے سکتے)۔

بہار شریعت میں ہے: بہو اور داماد اور سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ یا زوجہ کی اولاد یا شوہر کی اولاد کو (زکوٰۃ) دے سکتا ہے اور رشتہ داروں میں جس کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے، اسے زکوۃ دے سکتا ہے، جبکہ نفقہ میں محسوب نہ کرے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 928، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم