بیوی بیٹا اور سید کو حیلہ کر کے زکوۃ دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جن کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں، ان کو حیلہ کرکے زکوٰۃ کی رقم دینا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جن کو زکوٰة نہیں دے سکتے جیسے بیوی، بیٹا وغیرہ یا کوئی سید زادہ تو اب اگر ان میں سے کوئی مستحق ہو، تو کیا شرعی حیلہ کر کے ان کو وہ رقم دے سکتے ہیں؟
جواب
بیوی اور بیٹے کو حیلہ شرعی کروا کر زکوۃ دینا جائز نہیں۔ اگر بالفرض یہ محتاج ہوں تو ان کی ضروریات پوری کرنا ویسے ہی لازم ہے۔ جہاں تک ساداتِ کرام کے بارے میں سوال ہے تو سید شرعی فقیر کو بھی زکوٰۃ دینا تو جائز نہیں کہ یہ لوگوں کے مال کا میل ہے۔ لہٰذا سادات کرام کی زکوۃ کے علاوہ صاف مال سے خدمت کرنی چاہیے۔ ہاں اگر ایسا نہ ہو یعنی صاف مال سے خدمت کی صورت نہ بنے اس لئے شرعی حیلہ کیا گیا یعنی کسی غیر سید شرعی فقیر کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنایا گیا اور اس نے اپنی طرف سے سید کو یہ رقم پیش کر دی تو اب اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ بہتر ہے کہ سادات ِکرام کو حیلے کے بغیر ہی صاف ستھرا مال پیش کیا جائے۔
ساداتِ کرام کی خدمت کے کیا کہنے ہیں، یہ بہت بڑی سعادت ہے اور دنیا میں ساداتِ کرام کی خدمت کرنے والے کو قیامت میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے دستِ رحمت سے صلہ عنایت عطا فرمائیں گے بلکہ ایک حدیث شریف سے تو ساداتِ کرام کی خدمت کرنے کے بدلے بروزِ قیامت حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت و ملاقات ہونے کی خوشخبری کی طرف اشارہ ملتا ہے اس سے بڑھ کر مسلمانوں کو اور کیا چاہئے، لہٰذا جو حضرات مالدار ہونے کے باوجود اپنے خالص مالوں سے بطورِ ہدیہ ان حضرات کی خدمت نہ کریں تو ان مالداروں کی بے سعادتی و محرومی ہے انہیں چاہئے کہ دل کھول کر امداد و خیر خواہی کریں اور جو لوگ زیادہ مالدار نہ ہوں وہ بھی بقدرِ گنجائش ساداتِ کرام کی خدمت کریں۔
چنانچہ آلِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت کی فضیلت کے متعلق کنز العمال میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من صنع الی احد من اھل بیتی یداً کَافَاتُہ علیھا یوم القیامۃ
یعنی جو میرے اہلِ بیت میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا میں روزِ قیامت اس کا صلہ اسے عطا فرماؤں گا۔ (کنزالعمال، جلد 12، صفحہ 45، مطبوعہ: ملتان)
حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
من صنع صنیعۃ الی احد من خلف عبد المطلب فلم یکافہ بھا فی الدنیا فعلیّ مکافتہ اذا لقینی
یعنی جو شخص اولادِ عبد المطلب میں سے کسی کے ساتھ دنیا میں نیکی کرے اور اسے اس کا دنیا میں اس کا صلہ دینا مجھ پر لازم ہے جب وہ روزِ قیامت مجھ سے ملے گا۔ (کنزالعمال، جلد 12، صفحہ 45، مطبوعہ: ملتان)
اس حدیث کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: خود یہی صلہ کروڑوں صلے سے اعلیٰ و انفس ہے جس کی طرف کلمہ کریمہ ”اذا لقینی“ اشارہ فرماتا ہے بلفظِ اذا تعبیر فرمانا بحمد اللہ روزِ قیامت وعدہِ وصال (یعنی ملاقات) و دیدارِ محبوب ذوالجلال (یعنی زیارت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم) کا مژدہ (یعنی خوشخبری) سناتا ہے۔ مسلمانو! اور کیا درکار ہے؟ دوڑو اور اس دولت و سعادت کو لو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 105، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
نوٹ:ساداتِ کرام کی خدمت کی تفصیلی معلومات کے لئے فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 105 تا 109 کا مطالعہ کریں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1597
تاریخ اجراء: 09 رمضان المبارک 1445 ھ/20 مارچ2024 ء