کیا کبھی کبھار استعمال کی چیزیں حاجت اصلیہ ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کبھی کبھار استعمال ہونے والی چیز حاجتِ اصلیہ میں آئے گی یا نہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کبھی کبھار استعمال ہونے والی چیزیں بھی حاجت اصلیہ میں شمار ہوں گی؟
جواب
اگر وہ چیز ایسی ہے کہ بندے کی حاجت میں ہے، اگرچہ روز حاجت میں نہیں رہتی کچھ وقفہ سے حاجت پڑتی ہے مثلا سردی کے کپڑے ہیں ان کی حاجت سردیوں میں ہے تو یہ کپڑے حاجت میں ہی شمار ہوں گے، اس کی وجہ سے بندہ صاحب نصاب شمار نہیں ہوگا۔
بہار شریعت میں ہے: جاڑے کے کپڑے جن کی گرمیوں میں حاجت نہیں پڑتی حاجت اصلیہ میں ہیں، وہ کپڑے اگرچہ بیش قیمت ہوں زکاۃ لے سکتا ہے۔ (بہار شریعت، جلد1، صفحہ 930، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1804
تاریخ اجراء: 19 محرم الحرام 1446ھ/26 جولائی 2024ء