متعدد افراد کا ایک آدمی کو زکوٰۃ کی ادائیگی کا وکیل بنانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
متعدد افراد کا ایک آدمی کو زکوٰۃ کی ادائیگی کا وکیل بنانا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہماری جوائنٹ فیملی ہے، ہمارے گھر کے متعدد افراد، گھر کے ہی ایک فرد کو زکوٰۃ کی رقم دے کر وکیل بنادیتے ہیں کہ مستحق تک زکوٰۃ پہنچا دو، تو کیا کئی افراد ایک آدمی کو زکوٰۃ کی ادائیگی کا وکیل بنا سکتے ہیں؟
جواب
جی ہاں! کئی افراد کا ایک شخص کو زکوۃ کی رقم دے کر وکیل بنا دینا کہ وہ مستحق افراد ( مثلا فقیر شرعی) تک زکوۃ پہنچادے، یہ جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ! زکوۃ دینے والوں اور وکیل، دونوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ زکوۃ کا سال مکمل ہونے پر فوراً زکوۃ ادا کردیں کہ سال مکمل ہونے کے بعد بغیر وجہ شرعی تاخیر کرنا گناہ ہے، اور فقط زکوۃ ادا کرنے کے لیے بنائے گئے وکیل کے ہاتھ میں زکوۃ کی رقم جانے سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی، بلکہ جب فقیر شرعی یا اس کے نائب کا قبضہ ہوگا تب زکوۃ ادا کرنا کہلائے گا۔
در مختار میں ہے
”و لو خلط زكاة موكليه ضمن و كان متبرعا إلا إذا وكله الفقراء۔“
ترجمہ: وکیل نے اپنے مؤکلین کی زکوٰۃ مکس کردی تو وہ ضامن ہوگا اور متبرع قرار پائے گا مگر جبکہ فقراء نے اسے زکاۃ لینے کا وکیل بنایا ہو۔
اس کے تحت ردالمحتارمیں ہے
"قال في التتارخانية: إلا إذا وجد الإذن۔۔۔۔(قوله إذا وكله الفقراء) لأنه كلما قبض شيئا ملكوه و صار خالطا مالهم بعضه ببعض و وقع زكاة عن الدافع"
ترجمہ: تتارخانیہ میں فرمایا: مگر جبکہ دینے والوں کی طرف سے اجازت پائی جائے (تو اب ان کی زکوۃ مکس کرنے میں کوئی حرج نہیں) جب فقراء نے اسے وکیل بنایا ہو تو اب وہ متبرع نہیں ہوگا بلکہ دینے والوں کی زکوۃ ادا ہوجائے گی کیونکہ جب جب وہ کسی چیز پر قبضہ کرے گا تو فقراء اس کے مالک بن جائیں گے اور وہ فقراء کے مال کو آپس میں مکس کرنے والابنے گا (نہ کہ زکوۃ دینے والوں کے مال کومکس کرنے والے بنے گا) اور یوں دینے والے کی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 2، ص 269، دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے” ایک شخص چند زکاۃ دینے والوں کا وکیل ہے اور سب کی زکاۃ ملا دی تو اُسے تاوان دینا پڑے گا اور جو کچھ فقیروں کو دے چکا ہے وہ تبرع ہے یعنی نہ مالکوں سے اسکا معاوضہ پائے گا نہ فقیروں سے، البتہ اگر فقیروں کو دینے سے پہلے مالکوں نے ملانے کی اجازت دے دی تو تاوان اس کے ذمہ نہیں۔" (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 887، مکتبۃ المدینہ)
ان جزئیات سے ثابت ہوا کہ کئی افرادایک شخص کو اپنی زکاۃ کی ادائیگی کا وکیل کر سکتے ہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ جب تک فقیر یا اس کے نائب کو مال زکوۃ پر قبضہ نہ دیا جائے تو اس وقت تک زکوۃ ادا نہیں ہوتی، اگر فقیر یا اس کے نائب کو زکوۃ پر قبضہ دے دیا تو اب زکوۃ ادا ہو گئی۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3680
تاریخ اجراء: 24 رمضان المبارک 1446 ھ/ 25 مارچ 2025 ء