کھوٹ والے سونے کی زکوٰۃ کا طریقہ
کھوٹ ملے سونے کی زکوۃ ادا کرنے کا طریقہ
مجیب:محمد عرفان مدنی عطاری
فتوی نمبر:WAT-1143
تاریخ اجراء:10ربیع الاول1444ھ/07اکتوبر2022ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سونا جب بیچنے جائیں، تو دکاندار کہتے ہیں کہ 22 کیرٹ سونے میں 80 فیصد سونا ہے، بقیہ 20 فیصد کھوٹ ہے، تو اب ہم زکوۃ اس سونے کی مارکیٹ ویلیو کی 80 فیصد کے حساب سے ادا کریں گے یا پھر مکمل ویلیو پر؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
اولاً یہ سمجھ لیجئے کہ سونے، چاندی میں اگر کھوٹ (کسی اور جنس کی دھات) شامل ہو، لیکن وہ کھوٹ سونے چاندی سے کم ہو، تو وہ سارا میٹریل سونا، چاندی ہی قرار پائے گا اور ان کے استعمال اور زکوۃ وغیرہ کے معاملے میں اس تمام پر سونے چاندی کا حکم ہی عائد ہو گا۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں مال زکوۃ پرسال پوراہونے کے دن، کھوٹ سمیت اس سونے کی جو مارکیٹ ویلیو ہوگی، اس مکمل ویلیو پر زکوۃ فرض ہو گی، اس میں سے خالص سونے کی ویلیو الگ کر کے زکوۃ کا حساب نہیں کریں گے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وإذا كان الغالب على الدراهم الفضة فهي فضة، وإن كان الغالب غلى الدنانير الذهب فهي ذهب
ترجمہ: چاندی کے سکوں پر چاندی غالب ہو تو وہ چاندی ہی شمار ہوں گے، اسی طرح سونے کے سکوں پر سونا غالب ہو تو وہ سونا شمار ہوں گے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الصرف، ج 3، ص 219، دار الفکر، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم