logo logo
AI Search

کیا کرایہ کے مکان پر زکوۃ ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کرائے پر دیا ہوا مکان، ڈیڑھ تولہ سونا اور کچھ کیش رقم، ان پر زکوۃ کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا ایک مکان ہے جس کا مجھے کرایہ ملتا ہے، تقریبا ً ڈیڑھ تولہ سونا ہے اور کچھ نقد رقم ہے۔ رقم اور سونے پر تو زکوٰۃ ہوگی، لیکن کیا مکان پر بھی زکوٰۃ ہوگی جبکہ وہ بیچنے کی غرض سے نہیں لیا گیا؟

جواب

پوچھی گئی صورت کے مطابق اس مکان پر زکوۃ واجب نہیں ہے، البتہ اس کے کرائے کی رقم خود یا دیگر اموالِ زکوۃ کےساتھ مل کر نصاب کو پہنچ رہی ہو اور ان اموال پر سال گزر جائے اور دیگر شرائطِ زکوۃ بھی پائی جائیں، تو کرائے کی رقم پر زکوۃ فرض ہوگی۔ اور اگر کرایہ خرچ ہو جاتا ہے تو اس پر بھی زکوۃ نہیں ہوگی۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

و لو اشتری قدوراً من صفر یمسکھا و یؤاجرھا لا تجب فیھا الزکاۃ کما لا تجب فی بیوت الغلۃ

یعنی اگر پیتل کی دیگ خریدی اسے رکھے گا اور کرائے پر دے گا (تو) اس میں زکوۃ واجب نہیں جیسا کہ کرائے کے گھروں میں واجب نہیں۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 180، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے: (کرائے کے) مکانات پر زکوٰۃ نہیں، اگرچہ پچاس کروڑ کے ہوں، کرایہ سے جو سال تمام پر پس انداز ہوگا اس پر زکوٰۃ آئے گی، اگر خود یا اور مال سے مل کر قدرِ نصاب ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 161، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1547
تاریخ اجراء: 05 رمضان المبارک 1445 ھ/16 مارچ 2024 ء