زکوۃ کی رقم استعمال میں لاکر بعد میں ادا کرنا کیسا؟
کسی کی زکوۃ کی رقم اپنے استعمال میں لاکر بعد میں اپنے پاس سے زکوۃ دینا
مجیب: ابوالفیضان عرفان احمد مدنی
فتوی نمبر: WAT-1553
تاریخ اجراء: 15رمضان المبارک1444 ھ/06اپریل2023 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
زکوۃ کی رقم امانت کے طور پر ہوتی ہے، تو کیا اگر کوئی وصول کرنے والا یا صدر و سیکرٹری وغیرہ اس کو ذاتی استعمال میں لے آئے پھر اپنی طرف سے زکاۃ کی مد میں اتنی رقم جمع کروا دے، تو کیا ان کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جس شخص کو کسی نے اپنی زکوۃ ادا کرنے کے لیے وکیل بنایا، اس کا زکوۃ کی رقم کو اس نیت سے اپنے استعمال میں لانا کہ بعد میں ادائیگی کر دوں گا، یہ جائزنہیں اور اگر کسی نے ایسا کیا، تو اب اپنے طور پر زکوۃ کے پیسے ادا کرنے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی، بلکہ اس پر لازم ہے کہ جس نے اس کو زکوۃ دی تھی، اس کویہ صورت حال بتا کر دوبارہ زکاۃ ادا کرنے کی اجازت لے، اب اگر وہ کہے کہ تم میری طرف سے یہ دوبارہ ادا کردو، تو کر سکتا ہے۔ اور توبہ کرنا بھی لازم ہوگی۔
ہاں اگر زکوۃ دینے والے کی رقم اپنے پاس رکھ لی ابھی استعمال نہیں کی، استعمال کرنے سے پہلے، اپنی ذاتی رقم اس کی زکوۃ میں اس نیت سے دی کہ اس کی رقم میں رکھ لوں گا تو اس صورت میں زکوۃ ادا ہو جائےگی۔
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:
وكيل بدفع الزكاة إذا أمسك دراهم الموكل ودفع من ماله ليرجع ببدلها في دراهم الموكل صح. بخلاف ما إذا أنفقها أولا على نفسه مثلا ثم دفع من ماله فهو متبرع
ترجمہ: زکوۃ دینے کا وکیل، مؤکل کے دئیے ہوئے دراہم اپنے پاس رکھ لے اور اپنے مال سے زکوۃ اس نیت سے ادا کرے کہ مؤکل کے دئیے ہوئے دراہم سے لے لے گا تو صحیح ہے، بخلاف اس صورت کے کہ وکیل اولاً مؤکل کے دئیے ہوئے دراہم خرچ کردے پھر اپنے مال سے زکوٰۃ ادا کرے تو اس صورت میں زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی اور وکیل متبرع قرار پائے گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزکاۃ، ج 2، ص 269 ،270، دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: زکاۃ دینے والے نے وکیل کو زکاۃ کا روپیہ دیا وکیل نے اُسے رکھ لیا اور اپنا روپیہ زکاۃ میں دے دیا تو جائز ہے، اگر یہ نیّت ہو کہ اس کے عوض مؤکل کا روپیہ لے لے گا اور اگر وکیل نے پہلے اس روپیہ کو خود خرچ کر ڈالا بعد کو اپنا روپیہ زکاۃ میں دیا تو زکاۃ ادا نہ ہوئی بلکہ یہ تبرع ہے اور مؤکل کو تاوان دے گا۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 888، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم