مشینوں پر زکوٰۃ کا شرعی حکم کیا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مشینوں پرزکوٰۃ سے متعلق حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
زید کے پاس مشینیں ہیں، جن کے ذریعے کام کر کے وہ پیسہ کماتا ہے، ان مشینوں کی مالیت پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہو گا؟
جواب
زید پر ان مشینوں کی مالیت پر زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، اس وجہ سے کہ مشینری کام کرنے والے کے آلات کی مثل ہے اور کام کرنے والوں کے آلات و اوزار کو حاجاتِ اصلیہ میں شمار کیا جاتا ہے، ان پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔
درر اور اس کی شرح غرر میں زکوٰۃ کی فرضیت کی شرائط میں ہے:
”فارغ۔۔عن الحاجۃ الاصلیۃ۔۔ فلا تجب ۔۔ فی دور السکنی ۔۔وآلات المحترفین‘‘
ترجمہ: (زکوٰۃ کی فرضیت کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ) نصاب حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو، پس رہائشی گھروں اور پیشہ وروں کے آلات میں زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی۔ (درر مع غرر، ج 1، ص 172، مطبوعہ دار احیاء الکتب)
’’آلات المحترفین‘‘ کے تحت حاشیہ شرنبلا لی میں ہے:
’’المراد بھا ما لا یستھلک عینہ فی الانتفاع کالقدوم و المبرد او ما یستھلک و لا تبقی عینہ کصابون و حرض لغسال حال علیہ الحول و یساوی نصابا، لان الماخوذ بمقابلۃ العمل، اما لو اشتری ما تبقی عینہ کعصفر و زعفران لصباغ و دھن و عفص لدباغ فان فیہ الزکوۃ، لان الماخوذ فیہ بمقابلۃ العین‘‘
ترجمہ: ان سے مراد ایسے آلات ہیں، جن سے نفع اٹھانے میں عین ہلاک نہیں کیا جاتا جیسے بڑھئی کا تیشہ اور رندا، یا جسے ہلاک کیا جاتا ہے اور اس کا عین باقی نہیں رہتا جیسا کہ صابون اور اشنان، نہلانے والے کے لئے، ان پر سال گزر جائے اور یہ نصاب کے برابر ہوں (تب بھی زکوٰۃ لازم نہیں) کیونکہ اجرت کام کے بدلے میں ہے۔ بہر حال ایسی چیز خریدی جس کا عین باقی رہتا ہے جیسا کہ رنگریز کے لئے عصفر (ایک زرد رنگ کی بوٹی جس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں) اور زعفران اور دباغت کرنے والے کے لئے تیل اور مازو (ایک قسم کی دوا جو سیال شے کو گاڑھا کر دیتی ہے)، تو ان میں زکوٰۃ ہوگی، اس لئے کہ اجرت عین کے مقابلے میں(بھی)ہے۔ (حاشیہ شرنبلالی مع درروغرر، ج 1، ص 173، مطبوعہ، دار احیاء الکتب)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3660
تاریخ اجراء: 14 رمضان المبارک 1446 ھ/15 مارچ 2025 ء