بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
ہمارا ہوٹل ہے جہاں سے روزانہ 50 لڑکوں کے لیے سالن مدرسے میں جاتا ہے، ہم یہ سالن فی سبیل اللہ بھیجتے ہیں، ہم پوچھنا یہ چاہتے ہیں کہ کیا ہم یہ زکوۃ میں شمار کرسکتے ہیں؟
اولاً یہ بات ذہن نشین فرما لیں کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک فقیر یعنی مستحق زکوۃ شرعی فقیر کو مال زکوۃ کا مالک بنانا ضروری ہے، اس کے بغیر زکوۃ ادا نہیں ہوتی ،اور دریافت کی گئی صورت میں بظاہر یہی ہوتا ہے کہ اس میں طلبہ کو کھانے کا مالک نہیں بنایا جاتا، بلکہ کھانا ان کے لیے مباح کیا جاتا ہے کہ جو کھانا چاہے کھا لے، لہذا تملیک نہ پائے جانے کے سبب زکوۃ ادا نہیں ہوگی، نیز تمام طلبہ مستحق زکوۃ ہوتے بھی نہیں، ان میں اغنیا اور ہاشمی علوی و سادات کرام بھی ہوتے ہیں۔ ہاں! اگرمستحق زکوۃ طلبہ کوزکوۃ کی نیت سے کھانے کامالک بنادیاجائے کہ وہ اس کا جو چاہیں، کریں، جہاں چاہیں لے جائیں، تو اس کھانے کی جتنی مارکیٹ ویلیو ہو گی، اتنی آپ کی زکوۃ ادا ہو جائے گی۔
تنویر الابصار میں ہے
ھی تملیک جزء مال عینہ شارع من مسلم فقیر غیر ھاشمی و لا مولاہ مع قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالی
یعنی: اللہ عزوجل کی رضا کے لئے شارع کی طرف سے مقرر کردہ مال کے ایک جزء کا مسلمان فقیر کو مالک کر دینا، جبکہ وہ فقیر نہ ہاشمی ہو اور نہ ہی ہاشمی کا آزاد کردہ غلام، اور اپنا نفع اس سے بالکل جدا کر لیا جائے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد 3، صفحہ 203 تا 206، مطبوعہ: کوئٹہ)
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مستحقِ زکوٰۃ کو مالک بنانا شرط ہے۔ چنانچہ تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے
یشترط ان یکون الصرف (تملیکا) لا اباحۃ
یعنی: زکوۃ کی ادائیگی کے لیے بطورِ تملیک دینا شرط ہے، بطورِ ابا حت کافی نہیں۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد 3، صفحہ 341، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: زکوٰۃ کا رکن تملیکِ فقیر (یعنی فقیر کو مالک بنانا) ہے۔ جس کام میں فقیر کی تملیک نہ ہو، کیسا ہی کارِ حَسن ہو جیسے تعمیرِ مسجد یا تکفینِ میت یا تنخواہِ مدرسانِ علمِ دین، اس سے زکوٰۃ نہیں ادا ہو سکتی۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 269، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہارِ شریعت میں ہے مباح کر دینے سے زکاۃ ادا نہ ہوگی، مثلاً فقیر کو بہ نیت زکاۃ کھانا کھلا دیا زکاۃ ادا نہ ہوئی کہ مالک کر دینا نہیں پایا گیا، ہاں اگر کھانا دے دیا کہ چاہے کھائے یالے جائے تو ادا ہوگئی۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 874، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4585
تاریخ اجراء: 08 رجب المرجب 1447ھ / 29 دسمبر 2025ء