logo logo
AI Search

مالدار بیوی کے مقروض شوہر کو زکوٰۃ دینا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مالدار بیوی کے شوہر کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بیوی کے پاس تو زیورات ہیں لیکن شوہر مقروض ہے اور اس کی تقریباً ماہانہ تنخواہ گھر کے خرچ میں ہی ختم ہو جاتی ہے تو کیا ایسے مرد کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر وہ مرد اتنا مقروض ہے کہ قرض منہا کرنے کے بعد اس کے پاس حاجتِ اصلیہ سے زائد بقدرِ نصاب مال باقی نہیں بچتا تو اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے، بشرطیکہ وہ ہاشمی نہ ہو۔ میاں بیوی کا رشتہ بہت قریبی ہونے کے باوجود شریعت میں دونوں کی مالی ملکیت الگ شمار ہوتی ہے، اس لیے بیوی کے پاس زیورات ہونے اور اس کے صاحبِ نصاب ہونے سے شوہر غنی قرار نہیں پاتا اور نہ ہی شوہر کا قرض بیوی کے مال سے منہا کیا جاتا ہے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ میاں بیوی کا آپس میں ایک دوسرے کو اپنی زکوٰۃ دینے کی اجازت نہیں، لہذا بیوی اپنے شوہر کو زکوٰۃ نہیں دے سکتی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

و منها الغارم و هو من لزمه دين و لا يملك نصابا فاضلا عن دينه... و الدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير

ترجمہ: اور مصارفِ زکوٰۃ میں سے غارم ہے، یعنی وہ شخص جس پر قرض لازم ہو اور وہ اپنے قرض سے زائد نصاب کا مالک نہ ہو، اور جس شخص پر قرض ہو اسے زکوٰۃ دینا فقیر کو دینے سے بہتر ہے۔ (الفتاوی الهندیة، كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، جلد 1، صفحہ 188، دار الفکر، بیروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: جس پر اتنا دین ہو کہ اسے ادا کرنے کے بعد اپنی حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ چھپن روپے (یعنی نصاب کی مقدار) کے مال کا مالک نہ رہے گا اور وہ ہاشمی نہ ہو، نہ یہ زکوٰۃ دینے والا اس کے اولاد میں ہو، نہ باہم زوج و زوجہ ہوں، اسے زکوٰۃ دینا بے شک جائز، بلکہ فقیر کو دینے سے افضل۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحه 250-251، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: عورت اور شوہر کا معاملہ دنیا کے اعتبار سے کتنا ہی ایک ہو مگر اللہ عزوجل کے حکم میں وہ جدا جدا ہیں، جب تمہارے پاس زیور زکوٰۃ کے قابل ہے اور قرض تم پر نہیں شوہر پر ہے تو تم پر زکوٰۃ ضرور واجب ہے اور ہر سال تمام پر زیور کے سوا جو روپیہ یا اور زکوٰۃ کی کوئی چیز تمہاری اپنی ملک میں تھی اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہوئی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحه 168، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

علامہ رضی الدین محمد بن محمد سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 571ھ / 1175ء) لکھتے ہیں:

ولا يعطي زوجته ولا تعطي المرأة زوجها عند أبي حنيفة رحمه اللہ لاتصال منافع الأملاك بينهما عادة

ترجمہ: امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک آدمی اپنی بیوی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا اور نہ عورت اپنے شوہر کو دے سکتی ہے؛ کیونکہ عام طور پر ان دونوں کے مابین مملوکہ اشیا کے منافع متصل (آپس میں جڑے ہوئے) ہوتے ہیں۔ (المحیط الرضوی، کتاب الزکاة، باب من توضع فيه الصدقات، جلد 1، صفحہ 556، دار الكتب العلمية، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: عورت شوہر کو اور شوہر عورت کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 928، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1121
تاریخ اجراء: 14 رمضان المبارک 1447ھ / 04 مارچ 2026ء