کیا مسجد میں کھڑے ہو کر کسی کو زکوٰۃ دینا جائز ہے؟
مسجد میں زکوۃ دینا
مجیب: ابوصدیق محمد ابوبکر عطاری
فتوی نمبر: WAT-1062
تاریخ اجراء:12صفرالمظفر1444 ھ/09ستمبر2022 ء
دارالافتاء اہلسنت(دعوت اسلامی)
سوال
میں نے مسجد میں کھڑے ہو کر اپنی زکوۃ کی رقم دعوت اسلامی والوں کو دی، میں نے سنا ہے کہ مسجد میں اگر کوئی سائل سوال کرے تو اسے نہیں دے سکتے تو کیا میری زکوۃ ادا ہوگئی یا نہیں؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
آپ کی زکوۃ ادا ہو گئی۔ مسجد کے سائل کو دینے سے منع کیا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص مسجد میں اپنی ذات کے لیے سوال کرے، بھیک مانگے، تو اسے کچھ دینے کی ممانعت ہے، مسجد میں ہوتے ہوئے کسی دینی کام کے لئے چندہ دینے یا وکیل زکوۃ کو زکوۃ کی رقم سپرد کرنے کی ممانعت نہیں۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو (سائل) مسجد میں غل مچادیتے ہیں، نمازیوں کی نماز میں خلل ڈالتے ہیں، لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے صفوں میں پھرتے ہیں، (ان کا مانگنا) مطلقاً حرام ہے، اپنے لیے، خواہ دوسرے کے لیے،۔۔ اور اگر یہ باتیں نہ ہوں، جب بھی اپنے لیے مسجد میں بھیک مانگنا منع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سمع رجلا ینشد فی المسجد ضالة فلیقل لا ردھا ﷲ الیک، فان المساجد لم تبن لھذا،۔۔
جب اتنی بات منع ہے، تو بھیک مانگنی، خصوصاً اکثر بلا ضرورت بطور پیشہ کے خود ہی حرام ہے، یہ کیونکر جائز ہو سکتی ہے۔ (ملخصاً از فتاوی رضویہ، ج 23، ص 401،402، رضا فاونڈیشن، لاھور)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: مسجد میں اپنے لیے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایاہے، یہاں تک کہ امام اسمعیل زاہد رحمۃ اﷲعلیہ نے فرمایا: جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے، اسے چاہئے کہ ستر پیسے اﷲ تعالیٰ کے نام پر اور دے کہ اس پیسہ کا کفارہ ہوں۔ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 418، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم