logo logo
AI Search

کیا نابینا پر بھی زکوٰۃ فرض ہوگی؟

نابینا اگر مالکِ نصاب ہو، تو اس پر زکوٰۃ کا حکم

مجیب: ابومصطفی محمد کفیل رضامدنی
فتوی نمبر: Web-424
تاریخ اجراء03محرم الحرام1443 ھ/02اگست2022 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میری ایک بہن نابینا ہے اس کے مستقبل کے لیے اس کے نام کا اکاؤنٹ بنا کر اس میں رقم جمع کر دی، جوکہ نصاب کو پہنچتی ہے، تو کیا اس پر بھی زکوٰۃ ہو گی جبکہ وہ تو نابینا ہے۔

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اگر وہ رقم نصاب کی مقدار کو پہنچتی ہو تو اس پر دیگر شرائط مثلاً عاقل ہونا،  بالغہ ہونا، اس رقم پر سال کا گزرنا، وغیرہ کا اعتبار کرتے ہوئے زکوٰۃ لازم ہوگی، نابینا ہونا زکوٰۃ فرض ہونے سے مانع نہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم