logo logo
AI Search

نئے کاروبار پر سال پورا نہ ہو تو زکوٰۃ ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کاروباری شخص نیا کاروبار شروع کرے اور اس کاروبار پر سال مکمل نہ ہوا ہو تو کیا اس کاروبار پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے شوہر پہلے ہیئر کلپ کا کاروبار کرتے تھے اور اس کی زکوٰۃ ہر سال ادا کرتے تھے، لیکن اب آٹھ مہینے سے وہ نقلی جیولری کا کاروبار کر رہے ہیں، اس نئے کاروبار کو ابھی ایک سال نہیں گزرا، تو کیا اس نئے کاروبار پر زکوٰۃ ہوگی یا نہیں؟

جواب

زکوۃ میں ہر ہر مال پر الگ الگ سال گزرنا شرط نہیں ہوتا؛ بلکہ اصل نصاب پر سال گزرنا معتبر ہوتا ہے، اسی طرح جو مال سال کے درمیان میں حاصل ہو اس کو بھی اپنی جنس کے نصاب کے ساتھ ملایا جاتا ہے، وہ بھی اسی سال کے ساتھ شمار ہوتا ہے۔ اس پر الگ سے نیا سال گزرناشرط نہیں ہوتا، اس لیے جب ایک آدمی صاحبِ نصاب ہواور سال پورا ہوجائے تو سال پورا ہونے پر جس قدر مالیت (ضرورت سے زائد نقد رقم، سونا، چاندی، مالِ تجارت وغیرہ) اس کی ملکیت میں ہوگی، ان سب پر زکاۃ ادا کرنا فرض ہوگی۔

پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کے شوہر پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں تو سال پورا ہونے کے دن ان کے پاس جو بھی مالِ تجارت (پرانےاور نئے کاروبار کا موجودہ اسٹاک) اور نقدی وغیرہ اموال زکوۃ موجود ہو، تو قرض وغیرہ نکال کر اس سب کی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہوگا۔البتہ اگر آپ کے شوہر اس کاروبار سے پہلے صاحب نصاب نہیں تھے اور اس کاروبار سے صاحب نصاب ہو گئے تو پھر زکوۃ کی ادائیگی صاحب نصاب ہونے کے بعد چاند کے اعتبار سے سال پورا ہونے پر ہی لازم ہو گی ۔

زکوٰۃ نصاب کا ہجری سال مکمل ہونے پر فرض ہوتی ہے۔ جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے:

(و منها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية، وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة كذا في الهداية

یعنی زکوٰۃ واجب ہونے کی شرائط میں سےایک شرط مال پر سال گزرنا بھی ہے، یہاں زکاۃ میں قمری سال کا اعتبار ہے، جیسا کہ قنیہ میں ہے۔ اگر سال کے شروع اور آخر میں نصاب کامل ہے تو درمیانِ سال نصاب میں ہونے والی کمی سے زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگی، جیسا کہ ہدایہ میں ہے۔ (فتاوٰی ہندیہ، کتاب الزکاۃ، ج 01، ص 175، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے سب میں پہلی جس عربی مہینے کی جس تاریخ جس گھنٹے منٹ پر وہ 56 روپیہ کا مالک ہوا اور ختمِ سال تک یعنی وہی عربی مہینہ وہی تاریخ وہی گھنٹہ منٹ دوسرے سال آنے تک اس کے پاس نصاب باقی رہا، وہی مہینہ تاریخ منٹ اس کے لیے زکوۃ کا سال ہے، آمدنی کا سال کبھی سے شروع ہوتا ہو، اُس عربی مہینہ کی اس تاریخ منٹ پر اس کی زکوۃ دینا فرض ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 10، ص 157، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

درمیانِ سال حاصل ہونے والے مال کے متعلق در مختار میں ہے

(و المستفاد) و لو بهبة أو إرث (وسط الحول يضم إلى نصاب من جنسه) فيزكيه بحول الأصل

ترجمہ: درمیانِ سال میں جو مال حاصل ہو چاہے ہبہ یا وراثت کے ذریعے تو اسے، اسی کی جنس کے نصاب کے ساتھ ملائے گا اور اصل نصاب کا سال پورا ہونے پر اس کی بھی زکوٰۃ ادا کرے گا۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے

(قوله إلى نصاب) قيد به؛ لأنه لو كان النصاب ناقصا و كمل بالمستفاد فإن الحول ينعقد عليه عند الكمال (قوله: من جنسه) أن أحد النقدين يضم إلى الآخر و أن عروض التجارة تضم إلى النقدين للجنسية باعتبار قيمتها، ملتقطاً

ترجمہ: (مصنف کا قول: نصاب کے ساتھ) مصنف نے نصاب سے مقید کیا کیونکہ اگر نصاب پورا نہ ہو اور نئے حاصل ہونے والے مال کے ساتھ نصاب پورا ہو رہا ہو تو اب نصاب مکمل ہونے پر اس مال پر سال کا انعقاد ہوگا۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الزکاۃ، ج 3، ص 254، 255، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے جو شخص مالک نصاب ہے اگر درمیان سال میں کچھ اور مال اسی جنس کا حاصل کیا تو اُس نئے مال کا جدا سال نہیں، بلکہ پہلے مال کا ختم سال اُس کے لیے بھی سال تمام ہے، اگرچہ سال تمام سے ایک ہی منٹ پہلے حاصل کیا ہو، خواہ وہ مال اُس کے پہلے مال سے حاصل ہوا یا میراث وہبہ یا اور کسی جائز ذریعہ سے ملا ہو اور اگر دوسری جنس کا ہے مثلاً پہلے اُس کے پاس اونٹ تھے اور اب بکریاں ملیں تو اس کے لیے جدید سال شمار ہوگا۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 884، مکتبۃ المدینہ)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4855
تاریخ اجراء: 07 شوّال المکرم 1447ھ / 27 مارچ 2026ء