پینا فلیکس رول پر زکوٰۃ کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پینا فلیکس بنانے والے پر رول کی زکوٰۃ ہوگی ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ہمارا پرنٹنگ کا کام ہے، پینا فلیکس پر اشتہارات اور دیگر تحریریں پرنٹ کرکے دیتے ہیں، کسٹمر سے ہم پینا فلیکس اور پرنٹ دونوں کی رقم ملا کر قیمت لیتے ہیں، اس کام کیلئے ہمیں پینا فلیکس کے بڑے بڑے رول پہلے سے لے کے رکھنے پڑتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا پینا فلیکس کے رول بھی تجارت کے مال میں شامل ہوں گے اور ان پر زکوۃ ہوگی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں پینا فلیکس کے رول بھی تجارت کے مال میں شامل ہوں گے اور ان پر بھی زکوۃ لازم ہوگی کہ جب پینا فلیکس سمیت ہی پرنٹ شدہ تحریر و اشتہار کسٹمر کو دیا جاتا ہے تو اب پینا فلیکس بھی مال تجارت میں شمار ہوگا اور اس پر بھی زکوۃ لازم ہوگی۔
تنبیہ: پینا فلیکس کے اشتہارات میں جاندا ر کی تصاویر بھی عموما پرنٹ کی جاتی ہے، یہ سخت ناجائزوحرام اورگناہ کاکام ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔
فتح القدیر، ردالمحتار ودیگر کتب فقہ میں ہے:
”واللفظ لفتح القدیر: ولو اشترى الصباغ عصفرا أو زعفرانا يساوی نصبا للصبغ أو الدباغ دهنا أو عفصا للدباغة وحال عليه الحول تجب فيه لأن المأخوذ بمقابلة العين. وقوارير العطارين ولجم الخيل والحمير المشتراة للتجارة ومقاودها وجلالها ان كان من غرض المشتری بيعها به ففيها الزكاة والا فلا“
ترجمہ: اگر رنگ ساز نے رنگنے کیلئے زرد رنگ یا زعفران اتنا خریدا جو نصاب کے برابر ہے یا دباغ نے دباغت کیلئے تیل یاعفص (ایک قسم کی دوا جو سیال شے کو خشک اور گاڑھا کردیتی ہے) خریدا، اس پر سال گزر گیا تو زکوۃ لازم ہوگی کیونکہ ان چیزوں کے مقابلے میں جو اجرت لی جائے گی وہ عین کےبدلے میں لی جائے گی۔ عطر فروش کی شیشیاں، تجارت کیلئے خریدے ہوئے گھوڑوں اور گدھوں کیلئے لی گئی لگامیں، رسیاں، جھولیں، اگر خریدنے والی کی غرض یہ ہے کہ شیشیوں سمیت عطر اور لگاموں، جھولوں، رسیوں سمیت، گھوڑے، گدھے بیچے جائیں گے تو پھر ان اشیاء پر بھی زکوۃ لازم ہوگی ورنہ نہیں ہوگی۔ (فتح القدیرجلد 2، صفحہ 174، مطبوعہ بیروت)
بہارشریعت میں ہے: ” گھوڑے کی تجارت کرتا ہے، جُھول اور لگام اور رسیاں وغیرہ اس لیے خریدیں کہ گھوڑوں کی حفاظت میں کام آئیں گی تو اُن کی زکاۃ نہیں اور اگر اس لیے خریدیں کہ گھوڑے ان کے سمیت بیچے جائیں گے تو ان کی بھی زکاۃ دے۔ “ (بہارشریعت جلد 1، حصہ 5، صفحہ 908، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
جاندار کی تصویر کی مذمت کے بارے میں بخاری شریف میں ہے:
”ان أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون“
ترجمہ: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے سخت عذاب میں وہ لوگ ہوں گے جو تصویر بنانے والے ہیں۔ (بخاری شریف، صفحہ 1434، حدیث نمبر 5950، مطبوعہ بیروت)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
”قال أصحابنا وغيرهم من العلماء: تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور فی الأحاديث“
ترجمہ: ہمارے اصحاب اور دیگر علماء نے فرمایا کہ جاندار کی تصویر سخت حرام ہے، کبیرہ گناہوں میں سے ہے کیونکہ اس پر احادیث میں سخت وعید وارد ہوئی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 8، صفحہ 323، مطبوعہ بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد محمد فراز عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0242
تاریخ اجراء: 24 رمضان المبارک 1447ھ/14 مارچ 2026 ء