رہائش کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر زکوٰۃ ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رہائش کی نیت سے پلاٹ خریدا لیکن آبادی نہ ہونے پر بیچنے کی نیت بھی ہے تو زکوٰۃ کا حکم؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر اس نیت سے پلاٹ خریدا کہ اس کو بنا کر یہاں رہ لیں گے، اپنا گھر ہوجائے گا اور اگر یہاں آبادی نہ ہو سکی، تو اس کو بیچ کر کہیں اور گھر یا پلاٹ لے لیں گے۔ کیا اس پلاٹ پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟
جواب
اگر واقعی یہ نیت تھی کہ یہاں آبادی ہونے پر اپنا گھر بنا لیں گے، نہ ہوئی تو بیچ دیں گے تو وہ جگہ مالِ تجارت نہیں کہلائے گی اور اس پلاٹ پر زکوۃ واجب نہیں ہو گی البتہ اس کی وجہ سے قربانی، صدقہ فطر، حج وغیرہ واجب ہو سکتے ہیں جبکہ ان کے وجوب کی شرائط پائی جائیں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
و لو نوی التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه
ترجمہ: اگر عقد کے بعد تجارت کی نیت کی یا کسی چیز کو اپنے استعمال کے لئے خریدا اس نیت کے ساتھ کہ اگر نفع ملا تو اسے بیچ دوں گا تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔ (فتاوی شامی، جلد 1، صفحہ 128، دار الفکر، بیروت)
حاشيۃالطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالايضاح میں ہے:
الأصل أن ما عدا الحجرين و السوائم انما يزكی بنية التجارة عند العقد فلو نوى التجارة بعد العقد أو ا شترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه
ترجمہ: سونے چاندی اورچرائی کے جانوروں کے علاوہ میں اصل یہ ہے کہ ان پرزکوٰۃ اس وقت ہوگی جب عقد کے وقت تجارت کی نیت ہو، پس اگرعقد کے بعد نیت کی یاکسی چیز کو اپنے استعمال کے لئے خریدا اس نیت کے ساتھ کہ اگر نفع ملا تو اسے بیچ دوں گا تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔ (حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالإيضاح، جلد 1، صفحہ 718، دار الكتب العلمية، بیروت)
صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ”نیّت تجارت کے لیے یہ شرط ہے کہ وقت عقد نیّت ہو، اگرچہ دلالۃً تو اگر عقد کے بعد نیّت کی زکاۃ واجب نہ ہوئی۔ یو ہیں اگررکھنے کے لیے کوئی چیز لی اور یہ نیّت کی کہ نفع ملے گا تو بیچ ڈالوں گا توزکاۃ واجب نہیں۔“ (بہارشریعت، جلد 1، صفحہ 883، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2252
تاریخ اجراء: 10 شوال المکرم 1446ھ/09 اپریل 2025ء