جیب خرچ کی جمع ہوئی ایک لاکھ کی رقم پر زکوۃ کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پاکٹ منی جمع ہو کر ایک لاکھ روپے تک پہنچ جائے، تو اس پر زکاۃ ہوگی یا نہیں
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بچی کی پاکٹ منی آٹھ دس سالوں میں ایک لاکھ روپےتک پہنچ جائے، توکیا ان پیسوں پر زکاۃ فرض ہوگی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر یہ بچی نابالغ ہے تو اس پر زکاۃ فرض نہیں ہے کہ بچہ یا بچی جب تک نابالغ ہے اس پر زکاۃ نہیں ہے۔
اور اگر بالغ ہے، اور اس کی ملکیت میں (آج بمطابق 31 مئی 2023) مذکورہ 1 لاکھ رقم کے علاوہ اموالِ زکاۃ (سونا یا چاندی یا پرائز بانڈز یا یا سامانِ تجارت) میں سے بھی کچھ نہیں ہے جو تنہا یا اس 1 لاکھ رقم کےساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے، تو اس صورت میں بھی اس پر زکاۃ فرض نہ ہوگی۔ ہاں! اگر بالغ ہے اور اس کی ملکیت میں مذکورہ 1 لاکھ رقم کے علاوہ سونا یا چاندی یا پرائز بانڈز یا سامانِ تجارت بھی ہے جس کے ساتھ مل کریہ رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جاتی ہے تو (دیگر شرائط کی موجودگی میں) سال گزرنے کی صورت میں اس پر زکاۃ فرض ہوگی۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-960
تاریخ اجراء:09 ذوالقعدۃ الحرام 1444ھ/30 مئی 2023ء