logo logo
AI Search

قرض میں دی ہوئی رقم کی زکوٰۃ کا حکم؟

قرض والی رقم کی زکوۃ کس  پرلازم ہے؟

فتوی نمبر:WAT-466
تاریخ اجراء:21جمادی الاخری1443ھ/25جنوری2022

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

قرض پر زکوٰۃ دینی ہوتی ہے، تو جو رقم قرض میں دی ہوئی ہے اس کی زکوٰۃ، قرض دینے والے پر لازم ہے یا لینے والے پر؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

قرض میں دی ہوئی رقم کی زکوٰۃ، قرض لینے والے پر نہیں، قرض دینے والے پر لازم ہے، اور یہ اپنی شرائط کے مطابق ہرسال لازم ہوتی رہے گی، البتہ جو رقم قرض دی ہے، اس کی زکوۃ کی ادائیگی اس وقت واجب ہے کہ جب مقدار نصاب سے کم ازکم پانچواں حصہ موصول ہو جائے، اور ایسی صورت میں جتنی موصول ہو، اس پر اسی کے حساب سے زکوۃ دینا لازم ہوتی ہے یعنی پانچواں حصہ وصول ہوا تو اس پانچویں حصے کی جتنی زکوۃ بنتی ہے، صرف اتنی ہی ادا کرنا فی الحال لازم ہے، اور جتنے سالوں بعد حاصل ہوئی اتنے سالوں کی شرائط کے مطابق زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا، لیکن اگر وصولی سے پہلے ہی اس ساری رقم کی زکوٰۃ ادا کر دیتے ہیں، تب بھی اس رقم کی زکوٰۃ ادا ہو جائےگی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کتبہ
المتخصص  فی الفقہ الاسلامی
ابوالفیضان عرفان احمدمدنی