تین تولہ سونا اور کچھ رقم ہو تو زکوۃ فرض ہوگی؟
ساڑھے سات تولے سے کم سونے کے ساتھ کیش ہو ،توزکوۃ کا حکم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Pin-6868
تاریخ اجراء: 16جمادی الاولیٰ1443ھ21دسمبر2021ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ زید کے پاس تین تولہ سونا اور 50 ہزار روپے ہیں، اس کے علاوہ اس پر 50 ہزار روپے ہی قرض ہے، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی یا نہیں؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
صورتِ مسئولہ میں زید پر زکوٰۃ فرض ہو گی، کیونکہ اصول یہ ہے کہ اگر صرف سونا ہو اور اس کے ساتھ مالِ زکوۃ میں سے کسی اور جنس کا کوئی بھی مال ( مثلاً چاندی، روپیہ پیسہ، مالِ تجارت، پرائز بانڈ وغیرہ) موجود نہ ہو، تو زکوٰۃ تب ہی فرض ہوگی کہ جب سونا وزن کے اعتبار سے ساڑھے سات تولے ہو، لیکن اگر سونا ساڑھے سات تولے سے کم ہو اور اس کے ساتھ مالِ زکوۃ میں سے کسی اور جنس کا کوئی بھی مال (مثلاً چاندی، روپیہ پیسہ، مالِ تجارت، پرائز بانڈ وغیرہ) موجود ہو، تو اس صورت میں فرضیتِ زکوۃ کا نصاب’’ساڑھے 52 تولے چاندی کی مالیت‘‘ہے، پھر اگر قرض ہو، تو اسے سونے اور دیگر اموالِ زکوٰۃ کی کل مالیت میں سے مائنس کرنے کے بعد بچنے والی رقم ساڑھے 52 تولہ چاندی کی مالیت کے برابر پہنچتی ہو، تو قرض کے علاوہ اس تمام مال کی زکوٰۃ فرض ہوگی اور اگر نہیں پہنچتی، تو زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی اور چونکہ صورتِ مسئولہ میں تین تولہ سونا اور 50 ہزار روپے کو ملا نے سے چاندی کا نصاب بن جاتا ہے اور اس کی ٹوٹل اماؤنٹ میں سے قرض کے 50 ہزار روپے مائنس کیے جائیں، تب بھی یقیناً ساڑھے 52 تولہ چاندی کی مالیت سے زیادہ مالیت باقی رہتی ہے، لہٰذا زید پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔
اگر صرف سونا ہو، تو زکوٰۃ اس وقت فرض ہو گی کہ جبکہ وہ ساڑھے سات تولہ مکمل ہو۔ چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لیس فیما دون مائتی درھم شئ و لا فیما دون عشرین مثقالا ذھبا شئ
ترجمہ: دو سو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) سے کم میں کوئی چیز نہیں ہے اور بیس مثقال (ساڑھے سات تولہ سونے) سے کم میں کوئی چیز نہیں ہے۔ (الاموال لابن زنجویہ، ج3، ص987، مطبوعہ السعودیۃ)
تحفۃ الفقہاء میں ہے:
اما الذھب المفرد ان یبلغ نصابا و ذلک عشرون مثقالا ففیہ نصف مثقال و ان کان اقل من ذلک فلا زکاۃ فیہ
ترجمہ: صرف سونا ہو، تو اگر وہ نصاب کو پہنچے، تب اس میں زکوٰۃ فرض ہوگی اور سونے کا نصاب بیس مثقال (یعنی ساڑھے سات تولہ) سونا ہے اور اگر سونا اس سے کم ہو، تو اس میں زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی۔ (تحفۃ الفقھاء، ج1، ص266، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
اگر سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہو اور اس کےساتھ مالِ زکوۃ میں سے کسی اور جنس کا کوئی بھی مال (مثلاً چاندی، روپیہ پیسہ، مالِ تجارت، پرائز بانڈ وغیرہ) موجود ہو، تو اس صورت میں وجوبِ زکوۃ کا نصاب ’’ساڑھے 52 تولے چاندی کی مالیت‘‘ ہے۔ تبیین الحقائق میں ہے:
تضم قیمۃ العروض الی الذھب و الفضۃ و یضم الذھب الی الفضۃ بالقیمۃ فیکمل بہ النصاب لان الکل من جنس واحد
ترجمہ: سامان کی قیمت کو سونے چاندی کی قیمت کے ساتھ ملایا جائے گا اور سونے کو قیمت کے اعتبار سے چاندی کے ساتھ ملایا جائے گا تا کہ نصاب مکمل ہو جائے، کیونکہ یہ سب ایک ہی جنس سے ہیں۔ (تبیین الحقائق، ج1، ص281، مطبوعہ ملتان)
مفتئ اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقار الدین قادری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: سونے کی مقدار ساڑھے سات تولے اور چاندی کی مقدار ساڑھے باون تولے ہے۔ جس کے پاس صرف سونا ہے، روپیہ پیسہ، چاندی اور مالِ تجارت بالکل نہیں، اس پر سوا سات تولے تک سونے میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے، جب پورے ساڑھے سات تولہ ہوگا، تو زکوٰۃ فرض ہوگی، اسی طرح جس کے پاس صرف چاندی ہے، سونا، روپیہ پیسہ اور مالِ تجارت بالکل نہیں ہے، اس پر باون تولے چاندی میں بھی زکوٰۃ فرض نہیں ہے، جب ساڑھے باون تولہ پوری ہو یا اس سے زائد ہو، تو زکوٰۃ فرض ہوگی۔ لیکن اگر چاندی اور سونا دونوں یا سونے کے ساتھ روپیہ پیسہ، مالِ تجارت بھی ہے، اسی طرح صرف چاندی کے ساتھ روپیہ پیسہ اور مالِ تجارت بھی ہے، تو وزن کا اعتبار نہ ہوگا، اب قیمت کا اعتبار ہوگا، لہٰذا سونا چاندی، نقد روپیہ اور مالِ تجارت سب کو ملا کر، اگر ان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ (وقار الفتاوی، ج2، ص384 تا385، بزم وقار الدین، کراچی)
مختلف جنس کے اموالِ زکوٰۃ ملا کر ٹوٹل اماؤنٹ میں سے قرض کو مائنس کیا جائے گا، اگربچنے والی رقم ساڑھے 52 تولہ چاندی کی مالیت کے برابر پہنچتی ہو، تو قرض کے علاوہ اس تمام مال کی زکوٰۃ فرض ہو گی اور اگر نہیں پہنچتی، تو زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی۔ چنانچہ تنویرالابصارمع الدر میں ہے:
فلازکاۃ علی۔۔مدیون للعبد بقدر دینہ) فیزکی الزائد ان بلغ نصابا
ترجمہ: جس پر کسی بندے کا قرض ہو، اُس قرض کی مقدار زکوٰۃ نہیں ہوگی۔ ہاں! اگرقرض نکال کر بچنے والا بقیہ مال، نصاب کو پہنچ جائے، تو اُس کی زکوٰۃ دینی گی۔ (تنویرالابصارمع الدر، ج3، ص214 تا215، مطبوعہ پشاور)
فتاوی اہلسنت احکامِ زکوٰۃ میں ہے: صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے پاس صرف یہی سونا ہے، اس کے علاوہ سونا، چاندی، تجارت کا سامان اور رقم وغیرہ نہیں، تو زکوٰۃ جس نصاب پر فرض ہوتی ہے، اس اعتبار سے آپ صاحبِ نصاب نہیں ہیں کہ صرف سونا ہو، تو فرضیتِ زکوٰۃ کے لیے اس کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے، لہٰذا اس حالت میں سال پورا ہونے پر آپ پر زکوٰۃ بھی فرض نہیں ہوگی اور اگر سونے کے ساتھ کچھ چاندی، اگرچہ ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو یا سامانِ تجارت یا رقم ضرورت سے زائد ہو، تو زکوٰۃ کا نصاب تو بن جائے گا، اس لیے کہ اب سونے کے نصاب کا اعتبار نہ ہوگا، بلکہ چاندی کے نصاب سے موازنہ کیا جائے گا اور وہ ساڑھے باون تولہ چاندی ہے، لیکن آپ پر اتنا قرض بھی ہے کہ اس قرض کو آپ کے مال سے نکالیں، تو نصاب باقی نہیں رہے گا، اس لیے اس طرح بھی آپ پر زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی۔ (فتاوی اھلسنت احکامِ زکوٰۃ، ص110، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم