بچوں کی شادی کے لئے خریدے گئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم
شادی پر بیچنے کے لئے خریدے گئے پلاٹ بھی مالِ تجارت ہیں۔
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2024ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے چند پلاٹ اس نیت سے خریدے ہیں کہ بچے بڑے ہوں گے تو یہ پلاٹ کو فروخت کر کے بچّوں کی شادی کرے گا، کیا ان پلاٹوں پر زکوٰۃ بنے گی؟ اگر بنے گی تو کتنی زکوٰۃ دینی ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں بچوں کی شادی وغیرہ کے مواقع پر بیچنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ بھی مالِ تجارت ہیں کیونکہ بیچنے کی نیت کے ساتھ خریدے گئے ہیں۔ لہٰذا صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں نصاب پر سال مکمل ہونے والے دن دیگراموالِ زکوٰۃ کے ساتھ ان پلاٹوں کی سال مکمل ہونے والے دن مارکیٹ ویلیو کا چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد زکوٰۃ میں دینا ضروری ہے۔
درمختار میں ہے:
(وما اشتراه لها) ای للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة
یعنی جو چیز تجارت کے لیے خریدی جائے تو عقد تجارت کی نیت ملی ہونے کی وجہ سے وہ چیزتجارت کی بن جاتی ہے۔ (درمختار، 3 /272)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم