شادی میں ملے عورت کے زیور پر زکوۃ کب فرض ہوگی؟
شادی پر ملنے والے زیورات پر زکوۃ کا حکم
مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-2525
تاریخ اجراء: 23شعبان المعظم1445 ھ/05مارچ2024 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
لڑکی کو شادی میں سسرال اور میکے سے جو استعمال کا سونا چاندی ملتا ہے، تو وہ زکوۃ کب ادا کرے گی؟ شادی کے ایک سال بعد یا پھر کس طرح؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
٭ میکے والوں کی طرف سے عام طور پرعورت کو زیورات کا مالک بنا دیا جاتا ہے،
٭ اور شوہر یا اس کے گھر والوں کی طرف سے ملنے والے زیورات میں تین صورتیں ہوتی ہیں:
(1) شوہر یا اس کے گھر والوں نےعورت کو صراحتاً (واضح طور پر) کہہ دیا ہو کہ یہ تمہاری ملک کیے اور پھر قبضہ کاملہ بھی دے دیا۔
اس صورت میں عورت زیورات کی مالکہ ہے لہذا اگر وہ زیور تنہا یا دوسرے اموال زکوۃ سے مل کر نصاب کی مقدار کو پہنچتا ہے، تو جب اس کے نصاب پرسال گزر جائے گا، (بقیہ شرائط کے ساتھ ) اس کی زکوۃ ادا کرے گی۔
(2) شوہر یا اس کے گھر والوں نے عورت کو صراحتاً کہہ دیا ہو کہ یہ تمہاری ملک نہیں ہیں، فقط عارضی استعمال کے لیے دئیے جارہے ہیں۔
اس صورت میں جس نے زیورات دئیے، وہی ان کا مالک ہے، لہذا اس صورت میں عورت پر ان زیورت کی زکوۃ نہیں ہوگی، بلکہ مالک پر (اپنی بقیہ شرائط کے ساتھ) ہوگی۔
(3) شوہر یا اس کے گھر والوں نے دیتے وقت کچھ بھی نہیں کہا تھا۔
اس صورت میں شوہر کے خاندان کا رواج دیکھا جائے گا، اگر وہ عورت کو ان اشیاء کا مالک بناتے ہیں، تو جیسے ہی عورت اس پر قبضہ کاملہ کر لے گی، تو وہ ان زیورات کی مالکہ بن جائے گی، لہذا اگر وہ زیور تنہا یا دوسرے اموال زکوۃ سے مل کر نصاب کی مقدار کو پہنچتا ہے، تو جب اس کے نصاب پر سال گزر جائے گا، (بقیہ شرائط کے ساتھ) اس کی زکوۃ ادا کرے گی۔
اور اگر ان کارواج یہ ہوکہ وہ مالک نہیں بناتے، تو عورت پر ان زیورات کی زکوۃ نہیں ہوگی، بلکہ جو در حقیقت مالک ہے، اس پر (بقیہ شرائط کے ساتھ) ہوگی۔
چنانچہ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: چڑھاوے کا اگر عورت کو مالک کر دیا گیا تھا خواہ صراحۃً کہہ دیا تھا کہ ہم نے اس کا تجھے مالک کیا یا وہاں کے رسم و عرف سے ثابت ہوکہ تملیک ہی کے طور پر دیتے ہیں جب تو وہ بھی عورت ہی کی ملک ہے ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملک ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج12، ص260، رضا فاونڈیشن، لاھور)
در مختار میں ہے:
(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول)
ترجمہ: زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہونے کی شرط مال پر سال کا گزرنا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الزکاۃ، ج 2،ص 267، دار الفکر، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم