logo logo
AI Search

کیا شرابی کو زکوۃ دینا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شرابی کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

شرابی کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی مسلمان مستحقِ زکوٰۃ ہے یعنی ہاشمی یا سید بھی نہیں ہے اور اس کی ملکیت میں (قرض کو نکال کر) سونا، چاندی، نقد رقم، مالِ تجارت یا حاجت اصلیہ سے زائد کوئی  بھی سامان اتنی مالیت کا موجود نہیں ہے جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچتا ہو، تو ایسا شخص شرعی فقیر ہے۔ اگر ایسا شخص زکوٰۃ دینے والے کی اولاد یا والدین اور آباؤ اجداد میں سے نہیں ہے، تواسے زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ اداہوجائے گی۔ البتہ اگر ایسا شخص جسے زکوٰۃ دی جارہی ہے، وہ شرابی یا جواری ہے اور معلوم ہے کہ زکوٰۃ کے پیسوں کو وہ انہی کاموں میں استعمال کرے گا، تو ایسے شخص کے بجائے کسی اورمستحقِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ دی جائے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1003
تاریخ اجراء:26 صفرالمظفر1445ھ/13 ستمبر2023ء