logo logo
AI Search

بیوی صاحب نصاب ہو اور شوہر مقروض تو زکوۃ کا حکم؟

شوہر مقروض  ہو تو بیوی پر زکوٰۃ فرض ہوگی یا نہیں؟

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری
فتوی نمبر: WAT-3100
تاریخ اجراء:23ربیع الاوّل1446ھ/26ستمبر2024ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بیوی کے پاس ساڑھے سات تولہ سے اوپر سونا ہو، لیکن اس کے شوہر پہ قرض ہو، تو زکوٰۃ فرض ہوگی یا نہیں اور اس کی زکوٰۃ  بیوی دے گی یا شوہر دے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

سوال کا جواب جاننے سے قبل تمہیداً یہ مسئلہ ذہن نشین فرما لیجئے کہ اولاًمیاں بیوی کا رشتہ اگرچہ قریب ترین ہے، لیکن شریعت مطہرہ نے ان دونوں کی ملکیت کا الگ الگ اعتبار کیا ہے، زوجہ صاحب نصاب ہو، لیکن اس کے شوہر پر قرض ہو، تو اس کی وجہ سے زوجہ کے مال میں سے اسے مائنس نہیں کیا جائے گا، اسی طرح اس کا برعکس ہوگا، یعنی بیوی پہ موجود قرض میاں پر شمار نہیں کیا جائے گا اور پھر فقط قرض ہونا، زکوٰۃ کی فرضیت سے مانع نہیں، بلکہ اگر قرض اتنا ہو کہ اسے مائنس کیا جائے، تو آدمی مالک نصاب ہی نہ رہے، تو ایسا قرض زکوٰۃ کی فرضیت سے مانع ہو گا اور زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی۔

اس تفصیل کے بعد عرض ہے کہ صورتِ مسئولہ میں اگرچہ شوہر پر قرض ہے، اس کی وجہ سے بیوی مقروض شمار نہیں ہوگی، بلکہ اگر اس کی ملکیت میں موجود گولڈ وغیرہ اموالِ زکوٰۃ، حاجت اصلیہ  کے علاوہ اور اس کے ذاتی قرض کو مائنس کرکے نصاب تک پہنچتے ہوں تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی اور اسے اپنی زکوٰۃ کی ادائیگی کرنا لازم ہوگی۔ البتہ! اگر شوہر بیوی کی اجازت سے اس کی طرف سے زکوٰۃ دینا چاہے، توزوجہ کی زکوٰۃ کی ادائیگی کر سکتا ہے۔

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ کسی خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: عورت اور شوہر کا معاملہ دنیا کے اعتبار سے کتنا ہی ایک ہو، مگر ﷲ عزّوجل  کے حکم میں وُہ جدا جدا ہیں، جب تمھارے پاس زیور زکوٰۃ کے قابل ہے اور قرض تم پر نہیں شوہر پر ہے تو تم پر زکوٰۃ ضرور واجب ہے اور ہر سال تمام پر زیور کے سوا جو روپیہ یا اور زکوٰۃ کی کوئی چیز تمھاری اپنی ملک میں تھی اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہُوئی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 168، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بنایہ شرح ہدایہ میں ہے:

ولو أدی زکاۃ غیرہ من مال نفسہ بغیر أمرہ فأجازہ لا یجوز وبأمرہ یجوز

ترجمہ: اگر کسی دوسرے کے حکم کے بغیر اس کی زکوۃ اپنے مال سے ادا کر دی اور بعد میں اس دوسرے نے اس کو جائز قرار دے دیا، تو یہ جائز نہیں (یعنی زکوۃ ادا نہیں ہوگی) اور دوسرے کی اجازت سے زکوٰۃ دی، تو جائز ہے (یعنی پھر زکوٰۃ ادا ہوجائے گی)۔ (البنایة شرح الھدایۃ، جلد3، صفحہ314،  دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

دوسرے کی طرف سے صدقہ واجبہ ادا کرنے کےمتعلق فتاوی رضویہ میں ہے: قربانی و صدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے، تو بلا اجازت نا ممکن ہے۔ ہاں! اجازت کے لئے صراحۃً ہونا ضروری نہیں، دلالت کافی ہے، مثلاً زید اس کے عیال میں ہے، اس کا کھانا پہننا سب اس کے پاس سے ہوتا ہے یا یہ اس کا وکیلِ مطلق ہے، اس کے کاروبار یہ کیا کرتا ہے، ان صورتوں میں ادا ہو جائے گی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 453،454، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم