نصاب سے کم سونا ہو تو ضرورت کی اشیاء سے مل کر زکوۃ ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سونا نصاب سے کم ہو، لیکن ساتھ ٹی وی اور اضافی برتن ہوں، تو زکوۃ کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی کے پاس سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہے، لیکن اس کے پاس ٹی، وی، مائیکرو ویو وغیرہ ہوں، تو کیا اس پر زکوۃ لازم ہوگی؟
جواب
زکوۃ صرف مالِ نامی پر فرض ہوتی ہے جیسے سونا، چاندی، مالِ تجارت، پرائز بانڈ وغیرہ جبکہ اموالِ غیر نامی جیسے بستر، کپڑے، برتن، microwave or cooking rang وغیرہ میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی جبکہ انہیں بیچنے کی نیت سے نہ خریدا ہو۔
سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ یعنی تقریباً 87 گرام 48 ملی گرام ہے اور چاندی کا نصاب ساڑھےباون تولہ یعنی تقریباً 612 گرام 36 ملی گرام ہے اورنصاب کا چالیسواں حصہ یعنی 2.5% زکوۃ کے طور پر دینا ہوتا ہے۔
اگر کسی کی ملکیت میں نصاب سے کم سونا ہو، اس کےعلاوہ کوئی اور مالِ زکوۃ نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی، لیکن اگر اس سونے کے ساتھ دیگر اموالِ زکوۃ مثلاً مالِ تجارت، رقم، پرائز بانڈز میں سے حاجاتِ اصلیہ سے زائد کچھ بھی ہو تو سونے اور اس مالِ زکوۃ کی قیمت کو ملا دیکھا جائے گا کہ ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون (52.5) تولہ چاندی (تقریباً 612 گرام 36 ملی گرام) کی قیمت کو پہنچتی ہے یا نہیں، اگر وہ ساڑھے باون (52.5) تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچتی ہو تو ان پر سال گزر جانے اور دیگر شرائطِ زکوۃ متحقق ہونے کی صورت میں زکوۃ فرض ہوگی اور اس کا چالیسواں حصہ یعنی 2.5% زکوۃ کے طور پر دینا ہوگا اور اگر اس قیمت کو نہ پہنچتی ہو تو اس صورت میں زکوۃ فرض نہیں ہوگی۔
لہٰذا اگر آپ کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سے کم سونا ہے، اس کے علاوہ چاندی یا کوئی اور مالِ نامی حاجتِ اصلیہ سے زائد نہیں تو آپ پر زکوۃ فرض نہیں لیکن اس کے باوجود آپ زکوۃ لے بھی نہیں سکتیں کیونکہ زیور حاجاتِ اصلیہ میں سے نہیں اور جو شخص حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون (52.5) تولہ چاندی (تقریباً 612 گرام 36 ملی گرام) کی مالیت کا مالک ہو، وہ شرعاً غنی یعنی مالدار ہے، اس پر قربانی واجب ہے اور اسے زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1462
تاریخ اجراء: 26 رجب المرجب 1445 ھ/07 فروری 2024 ء