logo logo
AI Search

استعمال کے زیورات پر زکوۃ فرض ہوگی؟

سونے چاندی کے استعمالی زیورات پر زکاۃ کا حکم

مجیب: ابو واصف محمد آصف عطاری
مصدق : مفتی محمد ھاشم خان  عطاری
فتوی نمبر:73
تاریخ اجراء: 13رمضان المبارک1442ھ/26اپریل2021ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ خواتین کے سونے چاندی کے استعمالی زیورات پر زکوۃ لازم ہے یا نہیں نیز یہ بتادیں زیورات حاجت اصلیہ میں شمار ہوتے ہیں یا نہیں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

سونے چاندی کے استعمالی زیورات پر اگرشرائط زکوۃ پائی جائیں تو زکوۃ لازم ہے، کیونکہ شریعت مطہرہ کے قوانین کی روشنی میں سونا چاندی ثمن اصلی ہیں، لہذا وہ زیورات کی شکل میں ہوں یا ڈلی کی صورت میں یا برتنوں کی شکل میں، استعمال میں ہوں یا فارغ ہوں، ہرصورت میں شرائط زکوۃ پائے جانے کی صورت میں زکوۃ فرض ہوگی، نیز زیور پہننا حاجت اصلیہ میں شامل نہیں۔

نورالایضاح میں ہے:

فرضت علی حر مسلم مکلف مالک لنصاب من نقد ولو تبراً او حلیاً او انیۃ

ترجمہ: زکوۃ ہر اس آزاد مسلمان مکلف پر فرض ہے جو نقدی میں سے نصاب کا مالک ہو اگرچہ وہ سونا، چاندی ڈلی کی صورت میں ہو، زیورات کی صورت میں ہو یا برتنوں کی صورت میں۔ (نورالایضاح، کتاب  الزکاۃ، صفحہ154، مطبوعہ لاھور)

حاشية الطحطاوی میں ہے:

وفي الدر أفاد وجوب الزكاة في النقدين ولو كانا للتجمل أو للنفقة قال لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا

ترجمہ: در میں ہے: سونا، چاندی میں وجوب زکوۃ کا افادہ کیا اگرچہ وہ پہننے یا نفقہ کے لئے ہوں، فرماتے ہیں: چونکہ وہ دونوں ثمن اصلی ہیں، لہذا وہ کسی بھی صورت میں ہوں ان کی زکوۃ نکالی جائے گی۔ (حاشية الطحطاوی، جلد1، صفحہ 714، دار الكتب العلمية بيروت، لبنان)

امام اہلسنت، اعلی حضرت، الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن  تحریر فرماتے ہیں: فی الواقع سونے کا نصاب ساڑھے سات تولے اور چاندی کا ساڑھے باون تولے ہے ان میں سے جو اُس کے پاس ہو اور سال پُورا اس پر گزر جائے اور کھانے پہننے مکان وغیرہ ضروریات سے بچے اور قرض اسے نصاب سے کم نہ کردے تو اُس پر زکوٰۃ فرض ہے، اگر چہ پہننے کا زیور ہو زیور پہننا کوئی حاجت اصلیہ نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد10، صفحہ129، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم