گنے کی فصل کا عشر بیچنے والے پر یا خریدنے والے پر؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
کٹائی سے پہلے بیچی گئی فصل کا عشر بیچنے والے پر ہے یا خریدنے والے پر؟
دَارُالاِفْتَاء اَہْلسُنَّت(دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گنے کی فصل پک کر مکمل تیار ہو چکی ہے، اب صرف کٹائی کرنا باقی ہے، لیکن کٹائی کرنے سے پہلے ہی گنے کی فصل کو بیچ دیا۔ پوچھنا یہ ہے کہ گنے کی فصل کا عشر بیچنے والے پر ہو گا؟ یا خریدنے والے پر؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں گنے کی فصل کا عشر بیچنے والے پر ہوگا، خریدنے والے پر نہیں ہوگا۔
صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں: بیچنے کے وقت زراعت طیار (تیار) تھی، تو عشر بائع پر ہے۔ (بہارِ شریعت، 1 / 920)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب:مفتی علی اصغر صاحب مدظلہ العالی
تاریخ اجراءماہنامہ فیضان مدینہرمضان المبارک 1442 ھ مئی 2021