عشر کی مقدار کتنی ہے؟
عشر کون سی زمین پر کتنا ہوتا ہے؟
مجیب: ابو مصطفیٰ ماجد رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-118
تاریخ اجراء: 02 رجب المرجب 1443 ھ/4فروری 2022ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عشر کون سی زمین پر کتنا ہے؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
وہ زمین جسے بارش یا نہری پانی سے سیراب کیا گیا ہو اور اس زمین سے ایسی چیز پیدا ہو جس کی زراعت سے مقصود زمین سے منافع حاصل کرنا ہے تو اس کی کل پیداوار کا دسواں حصہ بطورعشر ادا کرنا فرض ہے۔ اور جو زمین ڈول یا اپنے ٹیوب ویل سے سیراب کی گئی تو شرائط پائے جانے کی صورت میں اس کی پیداوار پر نصف عشر یعنی کل پیداوار کا بیسواں حصہ دینا فرض ہے یونہی جس زمین کو پانی خرید کر سیراب کیا گیا تو اس کی کل پیداوار پر بھی نصف عشر یعنی بیسواں حصہ دینا فرض ہے۔ نیز اگر کچھ دن بارش کے پانی سے اور کچھ دن ٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب کی گئی تو اگر اکثر دن بارش کے پانی سے سیراب کی تو عشر لازم ہوگا ورنہ نصف عشر۔
بہار شریعت میں ہے: عشری زمین سے ایسی چیز پیدا ہوئی جس کی زراعت سے مقصود زمین سے منافع حاصل کرنا ہے تو اس کی پیداوار کی زکوۃ فرض ہے اس زکوۃ کا نام عشر ہے۔ (بہارشریعت، جلد:1، صفحہ: 916، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
اسی میں ہے: جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے، اس میں عُشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے اور جس کی آبپاشی چرسے یا ڈول سے ہو، اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب اور پانی خرید کر آبپاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی مِلک ہے، اُس سے خرید کر آبپاشی کی جب بھی نصف عشر واجب ہے اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں مینھ کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور کچھ دنوں ڈول چر سے سے تو اگر اکثر مینھ کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول چرسے سے تو عشر واجب ہے، ورنہ نصف عشر۔ (بہارشریعت، جلد:1، صفحہ:917، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم