logo logo
AI Search

عشر کی رقم سے افطاری کروانے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا عشر کی رقم سے افطاری کروا سکتے ہیں ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا عشر کی رقم سے افطاری کروا سکتے ہیں ؟

جواب

اچھی نیت کے ساتھ مسلمانوں کو افطاری کروانا اور کھانا کھلانا یقیناً ثواب کا باعث ہے، احادیثِ طیبہ میں اس کے بہت سے فضائل بیان کیے گئے ہیں، لیکن عشر کی رقم افطاری کے لئےخرچ کرنا شرعاً جائز نہیں کہ عشر انہی لوگوں کو دیا جا سکتا ہے جو مستحق زکوٰۃ ہوں، جبکہ افطاری میں عموماً امیر و غریب سب شامل ہوتے ہیں، نیز عام طور پر افطار پارٹیوں میں کھانے والوں کو کھانے کا مالک نہیں بنایا جاتابلکہ انہیں فقط کھانے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ زکوٰۃ و عشر کی ادائیگی کے لئے مستحق زکوٰۃ کو مالِ زکوٰۃ و عشر کا مالک بنانا ضروری ہوتا ہے، لہٰذا عشر کی رقم سے افطاری کروانے سے عشر ادا نہیں ہوگا،

زکوٰۃ اس شخص کو دے سکتے ہیں، جس کے پاس سونا چاندی، روپیہ پیسہ، مالِ تجارت یا حاجتِ اصلیہ (یعنی وہ چیزیں جن کی انسان کوحاجت رہتی ہے، جیسے رہائش گاہ، خانہ داری کے وہ سامان جن کی حاجت ہو، سواری اور پہننے کے کپڑے وغیرہ ضروریاتِ زندگی) سے زائد سامان یا یہ سب مل کر اتنے نہ ہوں کہ جن کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر بنے، نیز اس کا تعلق بنو ہاشم سے بھی نہ ہو۔ (بنو ہاشم سے مراد حضرت عباس، حضرت علی، حضرت جعفر، حضرت عقیل اور حضرت حارث بن عبد المطلب رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پاک اولادیں ہیں۔ )

عشر کے وہی مصارف ہیں، جو زکوٰۃ کے ہیں، جیسا کہ تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:

”(باب المصرف) ای مصرف الزکاۃ و العشر۔۔۔ (ھو فقیر، و ھو من لہ ادنی شیء)ای دون نصاب“

ترجمہ: زکوٰۃ اداکرنے کے مصارف: زکوٰۃ اورعشر کا ایک مصرف شرعی فقیر بھی ہے اور فقیر سے مراد وہ شخص ہے، جو نصاب سے کم مال کا مالک ہو۔ (تنویر الابصار مع درمختار و رد المحتار، ج 3، ص 333، مطبوعہ کوئٹہ)

بطورِ دعوت کھانا کھلانے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے ”عوض زرِ زکوٰۃ کے، محتاجوں کو کپڑے بنادینا، انہیں کھانا دے دینا، جائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، خاص روپیہ ہی دینا واجب نہیں، مگر ادائے زکوٰۃ کے معنی یہ ہیں کہ اس قدر مال کا محتاجوں کو مالک کر دیا جائے، اسی واسطے اگر فقراء و مساکین کو مثلاً: اپنے گھر بلا کر کھانا پکا کر بطریقِ دعوت کھلا دیا، تو ہر گز زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، کہ یہ صورت اباحت ہے، نہ کہ تملیک، یعنی مدعو اس طعام کو ملکِ داعی پر کھاتا ہے اور اس کا مالک نہیں ہو جاتا۔۔۔ ہاں اگر صاحبِ زکوٰۃ نے کھانا خام، خواہ پختہ مستحقین کے گھر بھجوا دیا یا اپنے ہی گھر کھلایا، مگر بتصریح پہلے مالک کر دیا، تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 70 تا71، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے ”مصرفِ زکوٰۃ ہر مسلمان حاجتمند ہے جسے اپنے مال مملوک سے مقدار نصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ پر دسترس نہیں بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو۔۔۔ اور نصاب مذکور پر دسترس نہ ہونا چند صورت کو شامل: ایک یہ کہ سرے سے مال ہی نہ رکھتا ہو اسے مسکین کہتے ہیں۔ دوم مال ہو مگر نصاب سے کم، یہ فقیر ہے۔ سوم نصاب بھی ہو مگر حوائجِ اصلیہ میں مستغرق، جیسے مدیون۔۔۔ بالجملہ مدار کار حاجتمندی بمعنی مذکور پر ہے، تو جو نصاب مزبور پر دسترس رکھتا ہے ہر گز زکوٰۃ نہیں پا سکتا۔“ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 109، 110، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4857
تاریخ اجراء: 29 رمضان المبارک 1447ھ/19 مارچ 2026ء