کیا عشر کی ادائیگی قرض نکالنے کے بعد ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عشر نکالنے کے لیے قرض مائنس کیا جائے گا یا نہیں ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک شخص ہے جس کی فصل کی آمدنی تقریبا چار لاکھ ہوئی ہے، لیکن اس پر کچھ قرض بھی ہے، تو کیا قرض کی رقم نکال کر عشر ادا کرنا ہوگا، یا کل آمدن پر عشر واجب ہے؟
جواب
قرض کی رقم نکالے بغیر کل آمدن پر عشر واجب ہوگا، زکوۃ اور عشر میں کچھ باتوں کے اعتبار سے فرق ہے، جیسے زکوۃ میں سال گزرنا شرط ہے، اور ادائیگی کے وقت قرض منھا کیا جاتا ہے، لیکن عشر میں ایسا نہیں، اس میں پیداوار کا حصول ہوتے ہی کل آمدن پر عشر واجب ہوجاتا ہے۔ چنانچہ درِمختار میں ہے: ”ویجب مع الدین“ یعنی: قرض کی رقم الگ کئے بغیر(عشر) ادا کرنا واجب ہے ۔ (درمختار، جلد 03، صفحہ 314، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1829
تاریخ اجراء:28 ذوالحجۃالحرام 1444 ھ/17 جولائی 2023 ء